سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-619 Fatwa no: 1448-619

رخصتی سے پہلے شوہر کے فوت ہونے کی صورت میں عدت کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کا نکاح ہوا تھا،لیکن رخصتی ابھی تک نہیں ہوئی تھی کہ وہ فوت ہو گیا،کیا اس کی بیوی پر اس صورت میں عدت لازم ہو گی یا نہیں ؟
جواب :

بیوہ عورت(جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو)اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے  چاہے رخصتی سے پہلے  شوہر کا  انتقال ہو جائے یا رخصتی کے بعد اور اگر حاملہ ہوتو اس کی عدت وضع حمل ہے،لہذا صورت مسئولہ میں جس شخص نے نکاح کیا اور رخصتی سے پہلے  وفات پا گیا اس کی بیوی پر چار ماہ دس دن کی عدت لازم ہوگی۔
الدرالمختار:
(و) العدة (للموت أربعة أشهر)... (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) وطئت أو لا ولو صغيرة، أو كتابية... إلا الحامل.. (و) في حق (الحامل) مطلقا(وضع) جميع (حملها)
(باب العدة،۵۱۰/۳،دارالفکر)
الهندية:
عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولا بها أو لا مسلمة أو كتابية.
(العدة،۵۲۹/۱،دارالفکر)
العناية:
وقوله (وعدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام لقوله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا}
(العدة،۳۱۱/۴، دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026