سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-62 Fatwa no: 1447-62

تجدید نکاح میں بیٹوں کو گواہ بنانے کا مسئلہ

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں: کہ ہم میاں بیوی احتیاطاً تجدید نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو کیا ہم گھر میں اپنے بیٹوں کو گواہ بنا کر تجدید نکاح کر سکتے ہیں ، اور ان کی گواہی جائز ہوگی اور اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا؟
جواب :

واضح  رہے کہ فقہائے احناف کی تصریحات کے مطابق  نکاح میں اپنے بالغ  بیٹوں  کو گواہ بنایا جا سکتا ہے، اور ان کی گواہی سے نکاح منعقد  ہو جائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ دونوں میاں بیوی تجدید نکاح کی صورت میں اپنے بالغ  بیٹوں کو گواہ بنا سکتے ہیں ، اور ان کے سامنے شرعی طریقے  سے ایجاب و قبول  کے بعد نکاح منعقد ہو جائے گا۔
چنانچہ خیر الفتاویٰ میں  ہے:
سوال :ایک آدمی نے نکاح کرایا اور گواہ اس کے دونوں بالغ بیٹے تھے، اور خطبہ خاوند نے خود پڑھا، آیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں ؟ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ گواہ اس کے بیٹے ہیں اس لیے   نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اور نیز  یہ کہ ان گواہوں کے اپنے نکاح بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ شرعاً واضح فرمائیں؟
جواب: صورت مسئولہ میں شرعاً نکاح صحیح ہو گیا  ہے، اور باقی ان گواہوں کے نکاح بھی برقرار ہیں ،ا ن میں کوئی فرق نہیں آ یا ہے ۔ لوگوں کا کہنا غلط ہے۔
              وفى الجوهرة النيرة:
ولأن النكاح له حكمان : حكم الانعقاد وحكم الإظهار فحكم الانعقاد أن كل من ملك القبول لنفسه انعقد النكاح بحضوره ومن لا فلا فعلى هذا ينعقد بشهادة الأعمى والأخرس والمحدود في القذف وبشهادة ابنيه أو ابنيها.(الجوهرةالنيرة:2 /26،کتاب النکاح)۔
وفى الفتاوى الهندية:
وينعقد بحضور من لا تقبل شهادته له أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه منها وكذا إذا تزوج بشهادة ابنيه لا منها أو ابنيها لا منه هكذا في البدائع والأصل في هذا الباب أن كل من يصلح أن يكون وليا في النكاح بولاية نفسه صلح أن يكون شاهدا ومن لا فلا كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية:1/267،كتاب النكاح، ط رشيدية).
وفي بدائع الصنائع:
وينعقد النكاح بحضور من لا تقبل شهادته عليه أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه منها وهذا عندنا (بدائع الصنائع:2/255،كتاب النكاح).
وفي ردالمحتار:
فلذا انعقد بحضور الفاسقين والأعميين والمحدودين في قذف وإن لم يتوبا وابني العاقدين.(3/23،كتاب النكاح، ط سعيد).

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب