نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ فقہائے احناف کی تصریحات کے مطابق نکاح میں اپنے بالغ بیٹوں کو گواہ بنایا جا سکتا ہے، اور ان کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ دونوں میاں بیوی تجدید نکاح کی صورت میں اپنے بالغ بیٹوں کو گواہ بنا سکتے ہیں ، اور ان کے سامنے شرعی طریقے سے ایجاب و قبول کے بعد نکاح منعقد ہو جائے گا۔
چنانچہ خیر الفتاویٰ میں ہے:
سوال :ایک آدمی نے نکاح کرایا اور گواہ اس کے دونوں بالغ بیٹے تھے، اور خطبہ خاوند نے خود پڑھا، آیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں ؟ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ گواہ اس کے بیٹے ہیں اس لیے نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اور نیز یہ کہ ان گواہوں کے اپنے نکاح بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ شرعاً واضح فرمائیں؟
جواب: صورت مسئولہ میں شرعاً نکاح صحیح ہو گیا ہے، اور باقی ان گواہوں کے نکاح بھی برقرار ہیں ،ا ن میں کوئی فرق نہیں آ یا ہے ۔ لوگوں کا کہنا غلط ہے۔
وفى الجوهرة النيرة:
ولأن النكاح له حكمان : حكم الانعقاد وحكم الإظهار فحكم الانعقاد أن كل من ملك القبول لنفسه انعقد النكاح بحضوره ومن لا فلا فعلى هذا ينعقد بشهادة الأعمى والأخرس والمحدود في القذف وبشهادة ابنيه أو ابنيها.(الجوهرةالنيرة:2 /26،کتاب النکاح)۔
وفى الفتاوى الهندية:
وينعقد بحضور من لا تقبل شهادته له أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه منها وكذا إذا تزوج بشهادة ابنيه لا منها أو ابنيها لا منه هكذا في البدائع والأصل في هذا الباب أن كل من يصلح أن يكون وليا في النكاح بولاية نفسه صلح أن يكون شاهدا ومن لا فلا كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية:1/267،كتاب النكاح، ط رشيدية).
وفي بدائع الصنائع:
وينعقد النكاح بحضور من لا تقبل شهادته عليه أصلا كما إذا تزوج امرأة بشهادة ابنيه منها وهذا عندنا (بدائع الصنائع:2/255،كتاب النكاح).
وفي ردالمحتار:
فلذا انعقد بحضور الفاسقين والأعميين والمحدودين في قذف وإن لم يتوبا وابني العاقدين.(3/23،كتاب النكاح، ط سعيد).
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔