سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-621 Fatwa no: 1448-621

رمضان کے قضاء روزہ کو قصداً توڑنے پر کفارہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی رمضان کے روزوں کی قضاء کر رہا تھا جو کہ بوجہ بیماری اس سے رہ گئے تھے دوران قضاء اس نے ایک دن قصداً قضاء روزے کو توڑ دیا ، اب کیا اس پر کفارہ لازم ہوگا ؟
جواب :

رمضان میں جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر کفارہ لازم ہوتا  ہے اس کے علاوہ کسی اور روزے کو قصداً توڑنے سے کفارہ لازم نہیں  ہوتا،لہذا اگر کوئی آدمی رمضان کے روزوں  کی  قضاء کرتے وقت قصداً روزہ توڑ دے،تو اس پر قضاء روزہ توڑنے کی وجہ سے کفارہ تو لازم نہیں ہوگا ،البتہ بلاعذر روزہ توڑنے کی صورت میں گناہگار ہوگا۔
الدرالمختار:
(وإن جامع)... (في رمضان أداء) لما مر.. (قوله: أداء) يغني عنه قوله في رمضان؛ لأن المراد به الشهر وكأنه أراد به الصوم ليشمل القضاء ويحتاج إلى إخراجه تأمل (قوله لما مر) أي من أن الكفارة إنما وجبت لهتك حرمة شهر رمضان، فلا تجب بإفساد قضائه ولا بإفساد صوم غيره.
(مايفسد الصوم،۴۰۹/۲،دارالفکر)
الفقه الاسلامي:
فلا كفارة على من أفطر في قضاء رمضان عند الجمهور.
(الكفارة،۱۷۳۸/۳،دارالفکر)
بدائع الصنائع:
وَأَمَّا صِيَامُ غَيْرِ رَمَضَانَ فَلَا يَتَعَلَّقُ بِإِفْسَادِ شَيْءٍ مِنْهُ وُجُوبُ الْكَفَّارَةِ، لِأَنَّ وُجُوبَ الْكَفَّارَةِ بِإِفْسَادِ صَوْمِ رَمَضَانَ.. فَلَا يَلْحَقُ بِهِ فِي وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ... كَصَوْمِ قَضَاءِ رَمَضَانَ.
(كتاب الصوم،۱۰۲/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026