سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-622 Fatwa no: 1448-622

رمضان کے مہینے میں نفل نما زکی جماعت میں قرآن سننے اور سنانے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض جگہوں میں رمضان میں تراویح پڑھنے کے بعد لوگ جمع ہوکرنفلوں میں جماعت کے ساتھ قرآن سنتے اور سناتے ہیں کیا اس طرح نفلوں کی جماعت میں قرآن سننا اور سنانا جائز ہے ؟
جواب :

نفل کی  جماعت  تداعی( یعنی بلانے) کے ساتھ مکروہ ہے ، البتہ  اگر دو یا تین آدمی بلائے  بغیر کسی جگہ جمع ہو کر باجماعت  نفل کی جماعت  پڑ ھ سکتے  ہیں لیکن تین سے زیادہ  آدمیوں کا  نفل کو  جماعت کے ساتھ  اداکرنا  مکروہ   ہے  چاہے رمضان کے اندر ہو یا رمضان کے علاوہ مہینوں میں ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر   لوگوں  کی تعداد تین سے زیادہ ہو یا تداعی کے ساتھ  ہو تو    تراویح کے بعد جمع ہو کر نفلوں  میں جماعت کے ساتھ قرآن  سننا اور سنانامکروہ  ہے ۔
الدر المختار:
( ولا يصلي الوتر و ) لا ( التطوع بجماعة خارج رمضان ) أي يكره ذلك على سبيل التداعي بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر.
(باب الوتر والنوافل،۲۶۱/۵،دارالفكر)
الفقه الإسلامي:
حكم صلاة الجماعة :فقال الحنفية والمالكية: الجماعة في الفرائض غير الجمعة سنة مؤكدة،
(حكم صلاة الجماعة،۳۱۷/۲، دارالفكر)
 غنية المصلي:
واعلم ان النفل بلجماعة علی سبيل التداعی مکروہ علی ما تقدم ما عدا التراويح.
(باب الوتروالنفل،۴۱۱/۱، رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026