نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں واضح رہے کہ شیئر کی خریدو فروخت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس کے شیئر خریدے جارہے ہیں اس میں کوئی سودی معاملہ نہ ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں روایتی بینکوں میں جو غیر سودی بینکنگ کا شعبہ ہے جس میں کوئی سودی معاملہ نہیں ہوتا اس کی وساطت سے جائز اور حلال شیئر كا خريدنا جائز ہے اس کے علاوہ جو شعبہ سودی معاملات سے منسلک ہے اس کا شیئر خریدنا یا اس کی وساطت سے شیئر خریدنا جائز نہیں۔
كمافي القرآن المجيد:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا…يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا…. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(البقرة،آية:279،پاره:2)
وفي معايير الشرعية:
الأصل حرمة المساهمة: المساهمة والتعامل والتعامل (الاســتثمار الاســتثمار أو المتاجرة المتاجرة) في أسهم شــركات شــركات تتعامل ً أحيانا بالربا أو نحوه مــن المحرمات المحرمات مع كون أصل نشاطها ً مباح نشاطها
(معايير الاسهم،568،569)
وفي البحرالرائق:
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.......وخرج بقولنا وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بمملوك له وإن ملكه بعده.
(البيوع ص:432،ج:5،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔