سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-623 Fatwa no: 1448-623

روایتی بینکوں کے شیئر خریدنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پاکستان میں روایتی بینکوں مثلاً ایم سی بی (MCB)،یو بی ایل(UBL)،ایچ بی ایل(HBL) وغيره میں سے کسی کے شیئر خریدنے کا شرعی حکم کیا ہے خصوصاً جبکہ ان روایتی بینکوں میں اب بڑے پیمانے پر اسلامی غیر سودی بینکنگ کا شعبہ بھی موجود ہو؟
جواب :

  واضح رہے کہ شیئر  کی خریدو فروخت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے   کہ جس کے شیئر خریدے جارہے ہیں   اس میں کوئی سودی معاملہ نہ ہو ،لہذا صورت مسئولہ   میں   روایتی بینکوں   میں جو  غیر سودی  بینکنگ  کا شعبہ   ہے جس میں کوئی سودی معاملہ نہیں ہوتا اس کی وساطت سے جائز اور حلال  شیئر    كا خريدنا جائز ہے  اس کے علاوہ جو شعبہ  سودی معاملات سے منسلک ہے اس کا شیئر خریدنا یا   اس  کی وساطت سے شیئر خریدنا  جائز نہیں۔
 كمافي القرآن المجيد:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا…يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا…. فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(البقرة،آية:279،پاره:2)
وفي معايير الشرعية:
الأصل حرمة المساهمة: المساهمة والتعامل والتعامل (الاســتثمار الاســتثمار أو المتاجرة المتاجرة) في أسهم شــركات شــركات تتعامل ً أحيانا بالربا أو نحوه مــن المحرمات المحرمات مع كون أصل نشاطها ً مباح نشاطها 
(معايير الاسهم،568،569)
وفي البحرالرائق:
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.......وخرج بقولنا وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بمملوك له وإن ملكه بعده.
(البيوع ص:432،ج:5،ط: دار الكتب العلمية بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026