سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-624 Fatwa no: 1448-624

زبان سے ناواقف گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نکاح کے دوران دو گواہ موجود ہوں،لیکن وہ دونوں گواہ نکاح خوان اور میاں بیوی کی زبان سے ناواقف ہو تو کیا نہ سمجھنے کے باوجود بھی نکاح ہو جائے گا یا گواہوں کے لیے ایجاب و قبول وغیرہ کا سمجھنا ضروری ہے؟
جواب :

 اگر عاقدین  نے ایسے   دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جو ان کی زبان سے ناواقف ہوں ،تو راجح  قول  کے مطابق  ان گواہوں کے نہ سمجھنے کے باوجود بھی نکاح ہو جائے گا اس لیے  کہ مجلس عقد  میں ایجاب وقبول کا سننا ضروری ہے سمجھنا ضروری نہیں۔
البحر الرائق:
قوله: (عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين الخ) إذا تزوج امرأة بالعربية والزوج والمرأة يحسنان العربية والشهود لا يعرفون العربية اختلف المشايخ فيه،والاصح أنه ينعقد.
(النكاح،۱۵۶/۳،الوحيدية)
التاتارخانية:
واما فهم الشهود كلام المتعاقدين هل هو شرط؟..قيل:الاعتبار بسماع الشهود لفظ النكاح وان لم يعرفو.. والظاهر خلافه.. عن محمد فيمن تزوج امراة بحضرة الهنديين..لم يفهما ولا يمكنها ان يعبرا ما سمعا لم يجز...والاصح ينعقد
(النكاح،۳۷،۳۸/۴،اعزازية)
حاشية الطحطاوي:
(فاهمين) أنه نكاح على المذهب..(قوله علي المذاهب) وفي الخلاصة: لايشترط وينعقد علي الاصح وقد اختلف المشائخ في اشتراط الفهم...لو عقدا عقدالنكاح بلفظ  لايفهمان كونه  نكاح هل ينعقد؟ اختلف المشايخ فيه قال بعضهم ينعقد؛لان النكاح لا يشترط..وظاهره ترجيححه.
(النكاح،۳۶/۴،الوحيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026