سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-626 Fatwa no: 1448-626

زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے مال ہلاک ہونے پر زکوۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اگر کسی آدمی کے پاس زکوۃ کی فرضیت کے لیے نصاب سے زیادہ مال موجود ہو اور سال گزرنے کے بعد اس کو زکوۃ کی ادائیگی کا موقع ملا،لیکن وہ زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرتا رہا کچھ دنوں کے بعد وہ سارا مال ہلاک ہو گیا ،ا ب اس پر واجب شدہ زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے یا نہیں ؟
جواب :

زکوۃ واجب ہونے کے بعد اس کو جلدی ادا کرنا افضل ہے بغیر کسی وجہ کے تاخیر ہونے کی صورت میں اگر مال ہلاک ہو جائے تو زکاة ساقط ہو جائے گی، تاہم ادائیگی میں بلاوجہ کوتاہی کی وجہ سے اس کا گناہ ہو گا جس کی معافی کے لیے صدق دل سے توبہ کرنا ضروری ہے ، لہذا اگر کسی شخص نے واجب شدہ زکوة   کی ادائیگی  میں تاخیر کی اور اسی  دوران سارا مال ہلاک ہو گیا، تو اس شخص پر  واجب شدہ زکاۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، لیکن بلاوجہ ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اس پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے اورآئندہ بلاوجہ تاخیر سے اجتناب کرنا ضروری ہے، تاہم اگر خود اس کے استعمال کرنے کی وجہ سے سارا مال ختم ہوا تو اس صورت میں زکوة  بذمہ واجب رہی گئی ۔
البحر الرائق:
ولو كان له نصاب حال عليه الحول فلم يزكه ثم استهلكه ثم استفاد غيره وحال على النصاب المستفاد الحول لا زكاة فيه
(الزكاة،۳۵۸/۲،دارالفکر)
الفتاوى الهندية :
وإن هلكت بعد الحول سقطت الزكاة.
(في زكوة الذهب،۱۷۸/۱،دارالفکر)
الفقه الإسلامي: 
فقال الحنفية:إن هلك المال بعد وجوب الزكاة، سقطت الزكاة..... سواء تمكن من الأداء أم لا
(هلاك المال بعد وجوب الزكاة،۱۸۱۷/۳،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026