سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-627 Fatwa no: 1448-627

شریک کو مشترکہ گاڑی کرایہ پر دینے اور مرمت کے اخراجات کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور بکر نے پانچ پانچ لاکھ ملا کر دس لاکھ کی گاڑی خریدی، زید اس کو چلاتا ہے اور بکر کو اس کے حصے کا پندرہ ہزار ماہانہ کرایہ دیتا ہے، کیایہ درست ہےیا نہیں نیزگاڑی کی ٹیونگ وغیرہ سب ذمہ داری زید پر ہوگی یا دونوں پر؛کیونکہ اصلا تو گاڑی دونوں کی ہے؟
جواب :

  بصورت مسئولہ   اگر  زید اور بکر دونوں نے گاڑی  خریدنے  کے معاملے کواور کرایے کے معاملے کو ایک ساتھ  ایک ہی عقد میں طے نہیں کیا  ہے ،بلکہ پہلے بیع کا معاملہ طے کیا پھرا س کے بعد  الگ سے کرایے کا معاملہ   کیا  ہے تو اس صورت میں   زید کا  بکر کو   اس کے حصے کا کرایہ( پندرہ ہزار )دینا  درست ہے ، نیزاس صورت میں  گاڑی کے استعمال پر ہونے والا خرچہ (جیسے:ٹیوننگ وغیرہ ) کرایے پر لینے والے (زید  )کے ذمہ ہو گا ۔
اوراگر گاڑی خریدنے اورکرایہ کا معاملہ ایک ہی عقد میں   کیا ہے ، تو کرایے کا معاملہ درست نہیں ہو گا؛کیونکہ  ایک عقد کو دوسرے عقد  میں داخل کر کے ایک ساتھ معاملہ کرنا(صفقۃ فی صفقۃ )کی وجہ سے   جائز نہیں ،اس  صورت میں  گاڑی  کے تمام اخراجات  اور نفع میں زید اور بکر دونوں شریک ہوں گے  ۔
كما في الدر المختار مع رد المحتار:
(وَ) تَفْسُدُ أَيْضًا (بِالشُّيُوعِ) بِأَنْ يُؤَجِّرَ نَصِيبًا مِنْ دَارِهِ أَوْ نَصِيبَهُ مِنْ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ مِنْ غَيْرِ شَرِيكِهِ..... (إلَّا إذَا آجَرَ) كُلٌّ نَصِيبَهُ أَوْ بَعْضَهُ (مِنْ شَرِيكِهِ) فَيَجُوزُ، وَجَوَازُهُ بِكُلِّ حَالٍ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى(قَوْلُهُ وَجَوَّزَاهُ بِكُلِّ حَالٍ) أَيْ سَوَاءٌ كَانَ مِنْ شَرِيكِهِ أَوْ لَا ...لَكِنْ بِشَرْطِ بَيَانِ نَصِيبِهِ، وَإِنْ لَمْ يُبَيِّنْ لَا يَجُوزُ فِي الصَّحِيحِ زَيْلَعِيٌّ.
(الْإِجَارَةِ الْفَاسِدَةِ،ص:47،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.
(في مسائل الشيوع،ص:448،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
وفي إجارة الدار وعمارة الدار وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء يكون على صاحب الدار، وكذلك كل سترة تركها يخل بالسكنى يكون على رب الدار
(فيما يجب على المستأجر وفيما يجب على الآجر،ص:455،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي شرح المجلة:
يَجُوزُ إجَارَةُ الْأَلْبِسَةِ وَالْأَسْلِحَةِ وَالْخِيَامِ وَأَمْثَالِهَا مِنْ الْمَنْقُولَاتِ إلَى مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ فِي مُقَابِلِ بَدَلٍ مَعْلُومٍ.
(في إجارة العروض،ص:100،ج:1،ط: نور محمد)
وفي بدائع الصنائع:
الْإِجَارَةَ بَيْعُ الْمَنْفَعَةِ فَتَصِحُّ فِي الشَّائِعِ كَبَيْعِ الْعَيْنِ.... وَلَنَا أَنَّهُ أَجَرَ مَا لَا يَقْدِرُ عَلَى إيفَائِهِ لِتَعَذُّرِ تَسْلِيمِ الشَّائِعِ بِنَفْسِهِ فَلَمْ يَكُنْ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ مَقْدُورَ الِاسْتِيفَاءِ وَإِنَّمَا لَا يَجِبُ الْأَجْرُ أَصْلًا.
(شرائط ركن الاجارة،ص:190،ج:4،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026