نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ اگرواقعتاًشوہر نے" میں طلاق ديتا ہوں " کے الفاظ سے اپنی بیوی مراد لی ہے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائزہے، إلا يہ کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو پھرعدت گزارنے كے بعد عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے بصور ت دیگر نہیں ۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ..... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ
(سورة البقرة،آية:229،230)
وفي معالم السنن:
عَن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة.قال الشيخ اتفق عامة أهل العلم على أن صريح لفظ الطلاق إذا جرى على لسان البالغ العاقل فإنه مؤاخذ به ولا ينفعه أن يقول كنت لاعباً أو هازلاً أو لم أنو به طلاقاً أو ما أشبه ذلك من الأمور.
(ومن باب الطلاق على الهزل،ج:1،ص:243،ط: المطبعة العلمية)
وفي رد المحتار:
وَلَا يَلْزَمُ كَوْنُ الْإِضَافَةِ صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِ لَوْ قَالَ: طَالِقٌ فَقِيلَ لَهُ مَنْ عَنَيْت؟ فَقَالَ امْرَأَتِي طَلُقَتْ امْرَأَتُهُ.... لَوْ قَالَ: امْرَأَةٌ طَالِقٌ أَوْ قَالَ طَلَّقْت امْرَأَةً ثَلَاثًا وَقَالَ لَمْ أَعْنِ امْرَأَتِي يُصَدَّقُ وَيُفْهَمُ مِنْهُ أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ تَطْلُقُ امْرَأَتُهُ، لِأَنَّ الْعَادَةَ أَنَّ مَنْ لَهُ امْرَأَةٌ إنَّمَا يَحْلِفُ بِطَلَاقِهَا لَا بِطَلَاقِ غَيْرِهَا، فَقَوْلُهُ إنِّي حَلَفْت بِالطَّلَاقِ يَنْصَرِفُ إلَيْهَا مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهَا لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ كَلَامُهُ،
(صريح الطلاق،ص:248،ج:3،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔