سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-629 Fatwa no: 1448-629

سالی سےاپنے بیٹے کی شادی کرانے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی بیوی فوت ہو گئی،اس نے کسی دوسری عورت سے شادی کر لی،اب وہ شخص اپنے بیٹے کی شادی اپنی اس دوسری بیوی کی بہن سے کرانا چاہتا ہے،تو کیا یہ شادی جائز ہے؟
جواب :

واضح رہےکہ  اگر مرد اور عورت کے درمیان حرمت نکاح کے اسبا ب (قرابت،مصاھرۃ،رضاعت،جمع،ملکیت،شرک )میں سے کوئی بھی   سبب نہ ہو تو  انکا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے،لہٰذا صورت مسئولہ میں بیٹے اور اس کی سوتیلی ماں کی بہن کے درمیان حرمت نکاح کے اسباب نہ ہو نے  کی وجہ سے باپ  کے لیے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی دوسری بیوی کی بہن سے کرانا جائز ہے۔  
القرآن المجيد:
قال الله تبارك وتعالى:وأحل لكم ما وراء ذلكم
(سورۃ النساء،۲۴/۴)
الدر المختار:
اسباب التحريم أنواع:قرابة،مصاهرة،رضاع،جمع،ملك،شرك،إدخال أمة على حرة فهي سبعة ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة
(فصل في المحرمات، ۳۱/۳،سعيد)
الشامی:
( قوله : وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال ) وكذا بنت ابنهاولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها
 ( فصل في المحرمات،۳۱/۳، سعيد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026