نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےکہ اگر مرد اور عورت کے درمیان حرمت نکاح کے اسبا ب (قرابت،مصاھرۃ،رضاعت،جمع،ملکیت،شرک )میں سے کوئی بھی سبب نہ ہو تو انکا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے،لہٰذا صورت مسئولہ میں بیٹے اور اس کی سوتیلی ماں کی بہن کے درمیان حرمت نکاح کے اسباب نہ ہو نے کی وجہ سے باپ کے لیے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی دوسری بیوی کی بہن سے کرانا جائز ہے۔
القرآن المجيد:
قال الله تبارك وتعالى:وأحل لكم ما وراء ذلكم
(سورۃ النساء،۲۴/۴)
الدر المختار:
اسباب التحريم أنواع:قرابة،مصاهرة،رضاع،جمع،ملك،شرك،إدخال أمة على حرة فهي سبعة ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة
(فصل في المحرمات، ۳۱/۳،سعيد)
الشامی:
( قوله : وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال ) وكذا بنت ابنهاولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها
( فصل في المحرمات،۳۱/۳، سعيد)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔