سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-630 Fatwa no: 1448-630

سر جدا ہونے کے بعد پرندے میں جان باقی رہنے کی صورت میں ذبح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل اس مہینے میں پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے ہم نے بھی ایک پرندے کا شکار کیا،لیکن اس کا سر اُڑ گیا ،البتہ اس میں جان ابھی بھی باقی ہے تو اس کے ذبح کا طریقہ کیا ہو گا؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  اگر شکار کرتے وقت  تسمیہ )بسم الله) پڑھی  اورپھر   پرندے کے سر کے ساتھ  گردن  کٹ گئی،  تو  محل  ذبح باقی نہ رہنے کی وجہ سے  پورے پرندے کو ذبح کیے بغیر کھانا جائز ہے بشرطیکہ  غلیل  سے یا  ایسی گولی  جو نوکدار نہ ہو شکار نہ کیا ہواوراگر  شكار كرتے وقت تسمیہ  نہ پڑھی  ہو تو  پھروہ جانور مردار کے حکم میں ہے اس کا کھانا جائز نہیں، اس طرح چھرے والا بندوق سے کیا ہوا شکار بھی حلال نہیں ہوگا ۔
كما في الفتاوي الهندية:
ولو انتزع الذئب رأس الشاة وهي حية تحل بالذبح بين اللبة واللحيين، قطع الذئب من ألية الشاة قطعة لا يؤكل المبان وأهل الجاهلية كانوا يأكلونه فقال - صلى الله عليه وسلم -: «ما أبين من الحي فهو ميتة» وفي الصيد ينظر إن كان الصيد يعيش بدون المبان فالمبان لا يؤكل، وإن كان لا يعيش بلا مبان كالرأس يؤكلان، كذا في الوجيز للكردري.
(في تفسير الاضحية،ص:291،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار مع ردالمحتار:
(قَوْلُهُ وَإِنْ كَانَتْ حَيَاتُهَا خَفِيفَةً)شَاةٌ قَطَعَ الذِّئْبُ أَوْدَاجَهَا وَهِيَ حَيَّةٌ لَا تُذَكَّى لِفَوَاتِ مَحَلِّ الذَّبْحِ، وَلَوْ انْتَزَعَ رَأْسَهَا وَهِيَ حَيَّةٌ تَحِلُّ بِالذَّبْحِ بَيْنَ اللَّبَّةِ وَاللَّحْيَيْنِ (قَوْلُهُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى)
(الذبائح،ص:308،ج:6،ط:دارلفكر)
وفيه ايضا:
(قَوْلُهُ عِنْدَ الْإِرْسَالِ) فَالشَّرْطُ اقْتِرَانُ التَّسْمِيَةِ بِهِ، فَلَوْ تَرَكَهَا عَمْدًا عِنْدَ الْإِرْسَالِ ثُمَّ زَجَرَهُ مَعَهَا فَانْزَجَرَ لَمْ يُؤْكَلْ صَيْدُهُ قُهُسْتَانِيٌّ، فَلَا تُعْتَبَرُ التَّسْمِيَةُ وَقْتَ الْإِصَابَةِ فِي الذَّكَاةِ….. (وَإِذَا أَدْرَكَ) الْمُرْسِلُ أَوْ الرَّامِي (الصَّيْدَ حَيًّا) بِحَيَاةٍ فَوْقَ مَا فِي الْمَذْبُوحِ (ذَكَّاهُ) وُجُوبًا (وَشُرِطَ لِحِلِّهِ بِالرَّمْيِ التَّسْمِيَةُ) وَلَوْ حُكْمًا كَمَا مَرَّ (وَ) شُرِطَ (الْجُرْحُ) لِيَتَحَقَّقَ مَعْنَى الذَّكَاةِ….إنْ كَانَ الصَّيْدُ يَعِيشُ بِدُونِ الْمُبَانِ فَالْمُبَانُ لَا يُؤْكَلُ وَإِنْ كَانَ لَا يَعِيشُ بِدُونِهِ كَالرَّأْسِ يُؤْكَلَان
(كتاب الصيد،ص:473،461،ج:6،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026