سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-631 Fatwa no: 1448-631

ہسپتال کے ملازم کو کمپنی کا بل فراہم کرنے اور اس کے عوض رقم لینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی چلا رہا ہوں اس کا کام مختلف ہسپتالوں میں سرجیکل آلات کی سپلائی ہے اس میں آپ سے دو باتیں جاننا چاہتا ہوں: 1۔ کمپنی میری ہے اور میں اکیلا اس کا مالک ہوں ہسپتال میں ایک بندہ جو ایک ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہا ہے وہ مجھے کہتا ہے کہ ایک چیز (مثلاً انجکشن ہے ) میں ہسپتال میں دوں گاآپ بس اپنی کمپنی کا بل بناکر ہسپتال والوں کودیا کریں ،اس کے دینے کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ میرے علاوہ کسی اور بندے سے اسی کمپنی کے انجکشن خریدتا ہے جس کمپنی کے میں بل ہسپتال میں دیتا ہوں اور پیسے بھی وہی دیتا ہے اور ہسپتال میں وہی پروڈیکٹ پہنچاتا ہے ،بس میراکام یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی کمپنی کےنام سے بل بنا کر وہ بل ہسپتال والوں کو دیتا ہوں پھر اس کے بدلے میں چیک (چاہے وہ پندرہ دن بعد ملے یا مہینے بعدملے) ہسپتال والوں سے وصول کر لیتا ہوں ،اس کے علاوہ پروڈیکٹ میں کسی بھی قسم کی خرابی ہوگی تو ہسپتال والوں کے سامنے ذمہ داری میری ہوگی اور ہسپتال والے بل کی ادائیگی کرنے سے پہلے ہر بل میں سے .55 فیصدٹیکس جو ایف بی آر کو ہر بل میں سے دیناہوتا ہےوہ ٹیکس ہسپتال خود ہی بل سے کاٹ کر ایف بی آر کو پہنچا دیتے ہیں پھر جو باقی رقم ملتی ہے (چاہےپچاس ہزار ہو یا دو لاکھ ہو )اس میں سے ہسپتال میں کام کرنے والابندہ مجھے میری کمپنی کے بل کے بدلے میں پانچ ہزار روپے دیتا ہے ،اب اس بندے سے میرے لیے بل بنانے کی مد میں پانچ ہزار روپے لینا درست ہے یا نہیں۔ (2):کوئی بھی ہسپتال ہو اس کی پالیسی ہوتی ہے کہ جو بندہ ہسپتال میں کام کرتا ہے وہ ہسپتال کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا ،جبکہ یہ مذکورہ بندہ ہسپتال کو بغیر اطلاع دئے ہسپتال کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے اور اس کے کاروبار کی بنیاد میں بن رہا ہوں تو اس میں شرعاً میرے لیے کیا حکم ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں ہسپتال میں کام کرنے والے شخص کو ہسپتال کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے ،لیکن پھر بھی  وہ خفیہ طور ہسپتال کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے  جو کہ دھوکہ اور فراڈ کے زمرہ میں آتا ہے  اور چونکہ اس کاروبار میں   آپ بھی اپنی کمپنی  کے بل بنوا کر اس  کے ساتھ  تعاون  کر رہے ہیں  جو کہ گناہ کے کام  میں تعاو ن کرنے کے مترادف ہے ،علاوہ ازیں وہ آپ سے انجکشن  نہیں خریدتا ہے ،بلکہ کسی اور جگہ سے خریدتا ہے   اور آپ ایک جھوٹا بل بنا کر دیتے ہیں جس سے ظاہر  ہو رہا ہے کہ اس نے وہ انجکشن آپ سے خریدا ہے یہ جھوٹ اور دھوکا دہی ہے ،اس لیے نہ اس کے لیے ہسپتال کے ساتھ  اس طرح کاروبار کرنا جائز ہے اور نہ آپ کے لیے  بل بنانااور اس کے بدلے اس سے کچھ رقم لینا جائز ہے۔
كمافي تفسير ابن كثير:
وقَوْلُهُ تعالى: {وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ}…وَيَنْهَاهُمْ عَنِ التَّنَاصُرِ عَلَى الْبَاطِلِ وَالتَّعَاوُنِ عَلَى الْمَآثِمِ 
(المائدة،ص:478،ج:1،ط: دار القرآن الكريم)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يدخلُ الجنَّةَ خِبٌّ ولابخيلٌ ولا منَّانٌ)…قوله: ((خب)) :خَدَّاعٌ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْخِدَاعِ
(بَابُ الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ،ص:1324،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي البناية:
والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل، كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم، وإنما سمي أجير واحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره )…..لغيره) أي لغير المستأجر
(فصد الفصاد ،ص:319،ج:10،ط: دار الكتب العلمية)
وفي مجلة الاحكام العدلية:
هُوَ الْأَجِيرُ الْخَاصُّ الَّذِي اُسْتُؤْجِرَ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ لِلْمُسْتَأْجِرِ فَقَطْ كَالْخَادِمِ الْمُوَظَّفِ
(الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ الضَّوَابِطِ الْعُمُومِيَّةِ،ص:81،ج:1،ط:نور محمد)
وفي المحيط البرهاني:
والأجير الخاص: من يستحق الأجر بتسليم النفس. وبمضي المدة، ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر. وبعضهم قالوا:…. والأجير الخاص: من يقبل العمل من واحد.
(في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك،ص:585،ج:7،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026