سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-632 Fatwa no: 1448-632

بینک کے ذریعے حکومت کی بلاسود قرضہ اسکیم سے قرض حاصل کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ آج کل گورنمنٹ نے جو قرضے کی سکیم نکالی ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب بینک ک ذریعے نوجوان لڑکوں کو 10 لاکھ سے 3 کروڑ تک قرضہ فراہم کررہی ہے اور اس پر کوئی سود نہیں لے رہی،بلکہ جتنا قرضہ دیا ہو گا اتنا ہی واپس لے گی اس پر کچھ بھی زائد وصول نہیں کررہی جیسے:10 لاکھ روپے قرضہ دیا 5 سال کے لیے تو 5سال تک جو رقم وہ ہر مہینے لیتے ہیں وہ بغیر سود کے ہوتی ہے یعنی اصل رقم جو قرضہ میں دی ہوتی ہے وہ ہی وصول کرتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ رقم بطور قرضہ لینا شرعاًدرست ہے یا نہیں؟
جواب :

صورت مسئولہ میں ہماری معلومات کے مطابق سرکار  پانچ لاکھ  تک کے قرضے پر کوئی چارجز نہیں لیتی ،لیکن پانچ لاکھ سے اوپر قرضے پر چارجز لیتی ہے مثلاً 5لاکھ سے 15 لاکھ تک ٪5 فیصد اور 15 لاکھ سے اوپر٪7 فیصدچارجز لاگو ہوتے ہیں قرض پر چارجز لینا سود ہے اس لیےاس سے احتراز ضروری ہے اور   باقی پانچ لاکھ تک   قرض کی جو بات  ہے اس پر اگرچہ ابتدائی چارجزنہیں لگتے،لیکن  اگر قسط کی ادائیگی میں تاخیر  ہوتو پھر اضافی چارجز لگتے ہیں ؛اس لیے  یہ صرف وہ آدمی لے  جس کو بروقت قسط ادا کرنے  کا یقین ہو اور جس کو یہ یقین نہ ہو اس کو اس سے بچنا چاہیے،تاہم اگرکسی کو یقین  ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی بروقت ادا کر دے گا تواس کے لیے سرکاری سکیم کے تحت   5 لاکھ روپے تك قرض لینے كی گنجائش ہے۔
کمافي البحرالرائق:
قوله: (ومالا يبطل بالشرط الفاسد القرض) بأن قال أقرضتك هذه المائة بشرط أن تخدمني شهرا امثلا فإنه لا يبطل بهذا الشرط، وذلك لان الشروط الفاسدة من اباب الربا وأنه يختص بالمبادلة المالية، وهذه العقود كلها ليست بمعاوضه مالية فلا تؤثر فيها الشروط الفاسدة
(باب المتفرقات في البيوع،ص:311،ج:6،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي فتاوي عثماني:
في المعاييرالشرعية:الحكم الشرعي الانواع البطاقات:
بطاقة الحسم الفوري:يجوزللمؤسسات اصداد بطاقة الحسم الفوري ما دام حاملهايسحب من رصيده ولا يترتب علی التعامل بها فائدة ربوية،
بطاقة الائتمان والحسب الآجل:
 يجوز اصدار بطاقة الائتمان والحسم الآجل بالشروط الآتية
(1)الا يشترط علي حامل البطاقة فوائد ربوية في حال تاخيره عن سداد المبالغ المستحقةعليه….لا يجوز للموسسات اصدادبطاقات الئتمان ذات الدين المتجدد الذي يسدده حامل البطاقة علي اقساط آجلةبفوائة الربوية
(كتاب الربو،ص:355،356،ج:3،ط:معارف القرآن)
وفي الدرالمختار:
مَطْلَبٌ فِي قَوْلِهِمْ الدُّيُونُ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا
قُلْت: وَالْجَوَابُ الْوَاضِحُ أَنْ يُقَالَ قَدْ قَالُوا إنَّ الدُّيُونَ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا أَيْ إذَا دَفَعَ الدَّيْنَ إلَى دَائِنِهِ ثَبَتَ لِلْمَدْيُونِ بِذِمَّةِ دَائِنِهِ مِثْلُ مَا لِلدَّائِنِ بِذِمَّةِ الْمَدْيُونِ
(مَطْلَبٌ فِي قَوْلِهِمْ الدُّيُونُ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا،ص:789،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
يوضع في بيت المال أربعة أنواع: أحدها ـ زكاة السوائم والعشور وما أخذه العشار من تجار المسلمين إذا مروا عليهم. والثاني ـ خمس الغنائم والمعادن والركاز. والثالث ـ خراج الأراضي وجزية الرؤوس .. وما أخذه العشار من تجار أهل الذمة والمستأمنين من أهل الحرب. والرابع ـ ما أخذ من تركة الميت الذي مات ولم يترك وارثاً أصلاً، أو ترك زوجاً أو زوجة.
وأما النوع الرابع: فيصرف إلى دواء الفقراء والمرضى وعلاجهم، وإلى أكفان الموتى الذين لا مال لهم، وإلى نفقة اللقيط وعقل جنايته ….وعلى الإمام صرف هذه الحقوق إلى مستحقيها.
(بيت المال او الدولة،ص:7370،ج:10،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026