سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-633 Fatwa no: 1448-633

ترک شدہ سرکاری عمارت سے سامان نکالنے اور اسے ذاتی استعمال میں لانے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی سرکاری ادارہ مثلاً ہسپتال ہے جو حکومت نے بالکل مہمل چھوڑ دیا ہے اس کو کسی بھی کام میں نہیں لاتے ہیں تقریباً پندرہ ،سترہ سال ہو گئے ہیں نہ اوپر چھت باقی ہے اور نہ دروازہ ،کھڑ کی موجود ہے ،بلکہ لوگوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو نکال کر اپنے استعمال میں لے لیا ہے تو آیا ایسے سرکاری ادارے سے چپکے سے کوئی لکڑی یا نصب شدہ الماری کو نکال کر اپنے استعمال میں لانے کا کیا حکم ہے اور اگر بالفرض کسی نے لیا ہو تو اس کے لوٹانے کی کیا صورت ہوگی؟
جواب :

واضح رہے کہ قانونی وقف املاک میں سے خفیہ طور پر کوئی چیز لینا  چوری ہی کہلاتا ہے اس لیے اس سے احتراز کرنا ضروری ہے،لہذ ا صورت مسئولہ میں  سرکاری ادارےسےچپکے سے کسی لکڑی کو یا نصب شدہ الماری کو اپنے استعما ل میں   لانا درست نہیں اور اگر کسی نے اس کو  لیا ہو تو  اس کو چاہیے کہ وہ چیز جہاں سے لی ہے وہا ں واپس کر دی جائےاور  اگر اس  ادارے میں  استعمال نہیں ہو سکتی تو اس  ہی کے مثل  دوسرے  سرکاری ادارے جہاں اس کے استعمال کی ضرورت ہو وہاں     اس چیز کودےدیا جائے۔
كما في بدائع الصنائع:
فصل أما ركن السرقة  فهو الأخذ على سبيل الاستخفاء..قال الله تبارك وتعالى { إلا من استرق السمع } سمى سبحانه وتعالى أخذ المسموع على وجه الاستخفاء استراقا۔۔۔۔۔وإذا عرف هذا فنقول لا قطع في سائر المباحات التي لا يملكها أحد ولا في المباح المملوك وهو مال الحربي في دار الحرب۔۔۔. ولا يقطع في الخشب إلا إذا كان معمولا بأن صنع منه أبوابا أو آنية ونحو ذلك ما خلا الساج والقنا والأبنوس والصندل لأن غير المصنوع من الخشب لا يتمول عادة فكان تافها وبالصنعة يخرج عن التفاهة.
(كتاب السرقة،ص:272،283،293،ج:9،ط:قديمي كتب خانه)
وفي الفقه الإسلامي:
لا خلاف بين العلماء في أنه إذا قطع السارق، والعين قائمة، ردت على صاحبها، لبقائها على ملكه. فإن كانت تالفة اختلفوا في ضمانها، فقال الحنفية: إذا هلك المسروق، فلا يجتمع على السارق وجوب الغرم (أي الضمان) مع القطع.فإن اختار المسروق منه الغرم لم يقطع السارق ، أي قبل وصول الأمر إلى الحاكم. وإن اختار القطع، واستوفي منه لم يغرم السارق؛ لأن الشارع سكت عن الغرم، فلا يجب مع القطع شيء. قال الله تعالى: {والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما، جزاء بما كسبا} [المائدة:38/5] فالله سبحانه جعل القطع كل الجزاء، فلو أوجبنا الضمان، لصار القطع بعض الجزاء، فيكون نسخاً لنص القرآن وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا قطع السارق فلا غرم عليه»
(هل يجمع بين الضمان والقطع،ص:361،ج:7ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
الفَصْلُ الثَّامن : استبدال الوقف وبيعه حالة الخراب :
يقصد بالوقف دوام الانتفاع به، وتحصيل الثواب والأجر بنفعه، فإذا آل إلى الخراب، فماذا يكون مصيره؟أجاز الفقهاء استبداله وبيعه للضرورة بشروط وقيود وتفصيلات لديهم.
(استبدال الوقف وبيعه حالة الخراب،ص:353،ج:10،ط:دارالفكر)
وفي البحرالرائق:
 ركن السرقة وهي الأخذ خفية.
(كتاب السرقة،ص:80،ج:5،ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026