سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-634 Fatwa no: 1448-634

سرکاری ہسپتال کے کمروں کو کرایے پر دے کر نصف نفع اجرت مقرر کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل" کے پی کے"(KPK) کے سرکاری ہسپتال میں صحت کارڈ چل رہے ہیں اسی طرح پراؤیٹ میں بھی چل رہے ہیں اور چونکہ پراویٹ میں نفع ذاتی ہوتا ہے جبکہ سرکاری میں ایسا نہیں ہوتا اس لیے سرکاری ہسپتال میں جو بڑاہوتا ہے جس کو ایم ایس کہتے ہیں وہ باہر کسی آدمی سے ایگریمنٹ کرتا ہے کہ آپ آجاؤ ہم آپ کو سرکاری ہسپتال میں دو تین کمرے مہیا کریں گے آپ میڈیسن لے آؤ اور اس میں اپنا کاروبار شروع کردو جس میں دوائی بھی آپ کی ہو گی اور ملازم بھی آپ کے ہونگے ،لیکن چونکہ ہم آپ کو ہسپتال کی ایک فیسیلیٹی(سہولت) کمرے،بجلی وغیرہ مہیا کر رہے ہیں اس لیے آپ ہمیں نفع میں سے آدھا یعنی پچاس فیصد دیں گے ۔اور ساتھ ایم ایس کہتا ہے کہ دوائی وہ والی رکھ لیں جس میں آپ کو مارجن زیادہ ہو ؛کیونکہ میڈیکل کے کاروبار میں ایک دوائی اعلیٰ قسم کی ہوتی ہے ، جو85 روپے میں کیمسٹ(دکاندار ) کو ملتی ہے اوروہ اس کو سوروپے میں بیچتا ہے (یعنی 15٪ بچت ہوتی ہے)، اور وہی دوائی دوسری کمپنی کی بھی بنائی ہوتی ہے جو کیمسٹ کو 25 روپے میں ملتی ہے اور وہ اس کو بھی سو روپے میں بیچتا ہے، حالانکہ دونوں دوائیوں کا کام ایک جیسا ہوتا ہے ،لیکن کمپنی اور معیار میں فرق ہوتا ہے ،کہ ایک زیادہ بہتر کام کرتی ہے جس میں نفع کم ہوتا ہے اور دوسری اول کی طر ح زیادہ بہتر کام نہیں کرتی ،لیکن اس میں نفع زیادہ ہوتا ہے ،لہذا ہسپتال والے یہ کہتے ہیں کہ تم ایسی دوائیاں رکھو جن پر مارجن زیادہ ہو، یعنی سستی قیمت میں خریدو اور مہنگے داموں فروخت کرو اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جتنا کماؤ گے، اس میں آدھا آدھا ہوگا، یعنی نفع میں شراکت ہوگی، لیکن اگر نقصان ہوگا تو وہ تمہارا ہوگا ،اب دریافت امر یہ کہ اس طرح کا ایگریمنٹ ان شرائط کےساتھ شرعاً جائز ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو اس کے جواز کی صورت کیا ہوگی ؟
جواب :

بصورت مسئولہ    مذکورہ  ایگریمنٹ   چند  وجوہات کی بناء پر جائز نہیں :۔
(1):  سرکاری ہسپتال  میں کام کرنے والا(بڑا) ایم ایس     اپنی ملکیت  نہ ہونے کے باوجود   ذاتی نفع کے لیے    ہسپتال(قانونی وقف)  کے کمرے  کو کرایے پر دے رہا ہے جو کہ درست نہیں  اور دوسرا کرایہ کی اجرت  بھی   مجہول ہے ۔
(2): مریض کی ضرورت  کو نظر انداز   کر کے صرف  زیادہ سے زیادہ  نفع  کے لیے  غیر معیاری دوائی رکھنا۔
مذکورہ  وجوہات  کی وجہ سے  یہ ایگریمنٹ جائز نہیں ، اس کا متبادل  یہ طریقہ اختیار  کر لیا جائے کہ ہسپتال کے باہر کو ئی دکان وغیرہ  لے لی جائے اور    دوائیوں کو رکھنے میں اس بات کا  لحاظ  رکھا جائے کہ ایسی دوائیاں  کہ جو مریض کے لیے  فائدہ مند نہیں یا مریض پر بلاوجہ  بوجھ بن جاتی     ہیں   اس سے  احتراز کیا جائے ۔

كمافي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يدخلُ الجنَّةَ خِبٌّ ولابخيلٌ ولا منَّانٌ)…قوله: ((خب)) :خَدَّاعٌ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْخِدَاعِ
(بَابُ الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ،ص:1324،ج:4،ط: دار الفكر)

وفي الدر المختار مع رد المحتار:
وَيُؤَجَّرُ) بِأَجْرِ (الْمِثْلِ) فَ (لَا) يَجُوزُ (بِالْأَقَلِّ)....مَطْلَبٌ لَا يَصِحُّ إيجَارُ الْوَقْفِ بِأَقَلَّ مِنْ أُجْرَةِ الْمِثْلِ إلَّا عَنْ ضَرُورَةٍ...(قَوْلُهُ: فَلَا يَجُوزُ بِالْأَقَلِّ) أَيْ لَا يَصِحُّ إذَا كَانَ بِغَبَنٍ فَاحِشٍ
(اجارة الوقف ص:402،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضاً:
فَصْلٌ يُرَاعَى شَرْطُ الْوَاقِفِ فِي إجَارَتِهِ فَلَمْ يَزِدْ الْقَيِّمُ بَلْ الْقَاضِي لِأَنَّ لَهُ وِلَايَةَ النَّظَرِ لِفَقِيرٍ وَغَائِبٍ وَمَيِّتٍ (فَلَوْ أَهْمَلَ الْوَاقِفُ مُدَّتَهَا قِيلَ تُطْلَقُ) الزِّيَادَةُ لِلْقَيِّمِ (وَقِيلَ تُقَيَّدُ بِسَنَةٍ) مُطْلَقًا (وَبِهَا) أَيْ بِالسَّنَةِ (يُفْتَى فِي الدَّارِ وَبِثَلَاثِ سِنِينَ فِي الْأَرْضِ)
(قَوْلُهُ: فَلَمْ يَزِدْ الْقَيِّمُ إلَخْ) يَعْنِي إذَا شَرَطَ الْوَاقِفُ أَنْ لَا يُؤْجِرَ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ، وَالنَّاسُ لَا يَرْغَبُونَ فِي اسْتِئْجَارِهَا وَكَانَتْ إجَارَتُهَا أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ أَنْفَعَ لِلْفُقَرَاءِ فَلَيْسَ لِلْقَيِّمِ أَنْ يُؤْجِرَهَا أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ بَلْ يَرْفَعُ الْأَمْرَ لِلْقَاضِي، حَتَّى يُؤْجِرَهَا لِأَنَّ لَهُ النَّظَرَ لِلْفُقَرَاءِ وَالْغَائِبِ وَالْمَيِّتِ،
(فصل في اجارة الوقف،ص:400،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
يشترط أن تكون الأجرة معلومة.سواء كان من المثليات أو من القيميات،أو كانت منفعة أخري؛لأن جهالتها تفضي إلي المنازعة.
(الفصل الثالث،ج:1،ص:86،ط: كارخانه تجارتِ كتب)
وفي البحر الرائق:
هي بيع منفعة معلومة بإجرة معلومة وما صح ثمنا صح أجرة والمنفعة تعلم ببيان قال رحمه الله: (وما صح ثمنا صح أجرة) لان الاجرة ثمن المنفعة فتعتبر بثمن المبيع، ثم إن كانت الاجرة عينا جاز أن يكون كل عين بدلا عن المبيع ولا ينعكس حتى صح أجرة ما لا يصح ثمنا كالمنفعة فإنها لا تصح ثمنا، وتصح أجرة إذا كانا مختلفي الجنس كما سيأتي.
(ج:8،ص:5،ط: دار الكتب العلمية بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026