نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مذکورہ ایگریمنٹ چند وجوہات کی بناء پر جائز نہیں :۔
(1): سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والا(بڑا) ایم ایس اپنی ملکیت نہ ہونے کے باوجود ذاتی نفع کے لیے ہسپتال(قانونی وقف) کے کمرے کو کرایے پر دے رہا ہے جو کہ درست نہیں اور دوسرا کرایہ کی اجرت بھی مجہول ہے ۔
(2): مریض کی ضرورت کو نظر انداز کر کے صرف زیادہ سے زیادہ نفع کے لیے غیر معیاری دوائی رکھنا۔
مذکورہ وجوہات کی وجہ سے یہ ایگریمنٹ جائز نہیں ، اس کا متبادل یہ طریقہ اختیار کر لیا جائے کہ ہسپتال کے باہر کو ئی دکان وغیرہ لے لی جائے اور دوائیوں کو رکھنے میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ ایسی دوائیاں کہ جو مریض کے لیے فائدہ مند نہیں یا مریض پر بلاوجہ بوجھ بن جاتی ہیں اس سے احتراز کیا جائے ۔
كمافي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يدخلُ الجنَّةَ خِبٌّ ولابخيلٌ ولا منَّانٌ)…قوله: ((خب)) :خَدَّاعٌ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْخِدَاعِ
(بَابُ الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ،ص:1324،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي الدر المختار مع رد المحتار:
وَيُؤَجَّرُ) بِأَجْرِ (الْمِثْلِ) فَ (لَا) يَجُوزُ (بِالْأَقَلِّ)....مَطْلَبٌ لَا يَصِحُّ إيجَارُ الْوَقْفِ بِأَقَلَّ مِنْ أُجْرَةِ الْمِثْلِ إلَّا عَنْ ضَرُورَةٍ...(قَوْلُهُ: فَلَا يَجُوزُ بِالْأَقَلِّ) أَيْ لَا يَصِحُّ إذَا كَانَ بِغَبَنٍ فَاحِشٍ
(اجارة الوقف ص:402،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضاً:
فَصْلٌ يُرَاعَى شَرْطُ الْوَاقِفِ فِي إجَارَتِهِ فَلَمْ يَزِدْ الْقَيِّمُ بَلْ الْقَاضِي لِأَنَّ لَهُ وِلَايَةَ النَّظَرِ لِفَقِيرٍ وَغَائِبٍ وَمَيِّتٍ (فَلَوْ أَهْمَلَ الْوَاقِفُ مُدَّتَهَا قِيلَ تُطْلَقُ) الزِّيَادَةُ لِلْقَيِّمِ (وَقِيلَ تُقَيَّدُ بِسَنَةٍ) مُطْلَقًا (وَبِهَا) أَيْ بِالسَّنَةِ (يُفْتَى فِي الدَّارِ وَبِثَلَاثِ سِنِينَ فِي الْأَرْضِ)
(قَوْلُهُ: فَلَمْ يَزِدْ الْقَيِّمُ إلَخْ) يَعْنِي إذَا شَرَطَ الْوَاقِفُ أَنْ لَا يُؤْجِرَ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ، وَالنَّاسُ لَا يَرْغَبُونَ فِي اسْتِئْجَارِهَا وَكَانَتْ إجَارَتُهَا أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ أَنْفَعَ لِلْفُقَرَاءِ فَلَيْسَ لِلْقَيِّمِ أَنْ يُؤْجِرَهَا أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ بَلْ يَرْفَعُ الْأَمْرَ لِلْقَاضِي، حَتَّى يُؤْجِرَهَا لِأَنَّ لَهُ النَّظَرَ لِلْفُقَرَاءِ وَالْغَائِبِ وَالْمَيِّتِ،
(فصل في اجارة الوقف،ص:400،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
يشترط أن تكون الأجرة معلومة.سواء كان من المثليات أو من القيميات،أو كانت منفعة أخري؛لأن جهالتها تفضي إلي المنازعة.
(الفصل الثالث،ج:1،ص:86،ط: كارخانه تجارتِ كتب)
وفي البحر الرائق:
هي بيع منفعة معلومة بإجرة معلومة وما صح ثمنا صح أجرة والمنفعة تعلم ببيان قال رحمه الله: (وما صح ثمنا صح أجرة) لان الاجرة ثمن المنفعة فتعتبر بثمن المبيع، ثم إن كانت الاجرة عينا جاز أن يكون كل عين بدلا عن المبيع ولا ينعكس حتى صح أجرة ما لا يصح ثمنا كالمنفعة فإنها لا تصح ثمنا، وتصح أجرة إذا كانا مختلفي الجنس كما سيأتي.
(ج:8،ص:5،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔