سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-638 Fatwa no: 1448-638

قرعہ اندازی میں ملنے والے موٹر سائیکل کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک سکیم شروع ہے جس کے تحت لوگوں سے ایک ہزار روپے لے کر ایک ٹکٹ دیا جاتا ہے اورآخر میں قرعہ اندازی کی جاتی ہے جس كا ٹكٹ نكل آتا ہے اس کو ایک موٹر سائیکل دی جاتی ہے ،اب یہاں پر دریافت یہ کرناہے آیا س طرح کی سکیم میں حصہ لینا سود اور جوئے کے زمرے میں تو نہیں آتا اور اگر یہ جوا اور سود ہے، تو جس بندے کا موٹر سائیکل نکل آئے اس طرح کی قرعہ اندازی میں، تو اس موٹر سائیکل کاکیا حکم ہوگا آیا اس کا استعمال کرنا اس بندے کے لیے جائز ہوگا یا نہیں،اگر جائز نہیں تو اس موٹر سائیکل کا کیا جائے؟
جواب :

    بصورت مسئولہ  لوگوں کا موٹرسائیکل کی سکیم میں     ہزارروپے   دے کر ٹکٹ وصول کرنا   جوا اور سود ہے ، کیونکہ اپنی دی ہوئی رقم سے زیادہ  بغیر عوض کے لینا سود  ہے اور  چونکہ اس سکیم میں  پختہ علم بھی نہیں ہوتاکہ وہ پیسہ لگانے والے کو ملے گا یا نہیں  اس لیے یہ  جوا بھی ہےجو کہ  ناجائز اور حرام ہے۔
نیزاس سکیم کے ذریعے انعام (موٹر سائیکل )موصول ہو نے والے کے لیےاس کا استعمال کرنا جائز نہیں،  ذاتی رقم  یعنی  ایک  ہزار کے علاوہ ،  اس کوثواب کی نیت کے بغیر  صدقہ کرنا ضروری ہے۔
 كما في القرآن المجيد:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(المائدة،آية:90،پاره7)
وفيه ايضا:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
(البقرة،آية:275،پاره:3)
وفي احكام القرآن:
وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ حِلَاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَجُلٍ إنْ أَكَلْت كَذَا وَكَذَا بَيْضَةً فَلَكَ كَذَا وَكَذَا فَارْتَفَعَا إلَى عَلِيٍّ فَقَالَ هَذَا قِمَارٌ وَلَمْ يُجِزْهُ وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَحْرِيمِ الْقِمَارِ وَأَنَّ الْمُخَاطَرَةَ مِنْ الْقِمَارِ قَالَ ابْن عَبَّاسٍ إنَّ الْمُخَاطَرَةَ قِمَارٌ وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُخَاطِرُونَ عَلَى الْمَالِ... إلَى أَنْ وَرَدَ تَحْرِيمُهُ
(تحريم الميسر،ص:11،ج:2،ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي الدرالمختار مع ردالمحتار:
الْقِمَارَ مِنْ الْقَمَرِ الَّذِي يَزْدَادُ تَارَةً وَيَنْقُصُ أُخْرَى، وَسُمِّيَ الْقِمَارُ قِمَارًا لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ
(البيع،ص:403،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
لَا يَجُوزُ لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْلِيقِ الْمِلْكِ عَلَى الْخَطَرِ    
(مسائل في المسابقة والقمار،ص:554،ج:8،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي المحيط البرهاني:
استعمال القرعة نوع قمار وإنه حرام
(القضاء،ص:82،ج:8،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026