سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-6 Fatwa no: 1447-6

زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دادا نے اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کردی اور بیٹیوں کو محروم رکھا اور ساری جائیداد بیٹوں کے درمیان تقسیم کرکے ان کے حوالہ کردیا  پھر ہمارے باپ نے اپنی جائیداد زندگی ہی میں ہمارے حوالہ کردیا اور تصرف میں دےدیا ۔ہم نے اپنے بہنوں کو ان کا حصہ دے دیا ۔اب سوال یہ ہے کہ ہماری پھوپھیوں کا حصہ اس جائیداد میں ہے یا نہیں ؟ اور اس پر گناہ گار کون ہوگا ،دادا یا باپ یاہم؟ 

جواب :

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اولاد کے  درمیان جائیدادتقسیم کرنا چاہےتو بہتر یہ ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دے البتہ میراث کی ترتیب پرتقسیم کرنا  بھی  جائز ہے۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان جائیداد تقسیم کرکے بیٹیوں کو محروم کردے تو اس سے بیٹوں کی ملکیت ثابت ہوجائے گی لیکن باپ اس پر گناہ گار ہوگا ۔
بصورت مسئولہ جب آپ کے دادا نے اپنی زندگی ہی میں جائیداد اپنے بیٹوں درمیان تقسیم کرکے ان کے حوالہ کردی  تو اس  سےجائیداد بیٹوں (یعنی آپ کے والد اور چچوں )کی ملکیت میں آگئ۔اب اس جائیدادمیں بیٹیوں (آپ کی پھوپھیوں)کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا اور آپ کے دادا نے بیٹیوں (آپ کے پھوپھیوں )کو جائیداد سے محروم کرکے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس لیے آپ کی جائیداد میں پھوپھیوں کا کوئی حصہ نہیں۔
القرآن الكريم:
قال الله تبارك و تعالى في كتابه المجيد: "ان الله يامر بالعدل و الاحسان".
(سورة النحل:۹۰)
أوجز المسالك:
عن النعمان بن بشير أنه قال:إن أباه بشيرا أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال :إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أ كل ولد نحلته مثل هذا؟ فقال:لا.قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"فارتجعه" .
قال الشيخ زكريا رحمه الله في شرح هذا الحديث:ولنا ما في حديث النعمان من الدليل على التحريم ؛لأنه عليه السلام سمّاه جورا و أمر برده وامتنع عن الشهادة عليه و الجور حرام والأمر يقتضي الوجوب و لأن تفضيل بعضهم يورث بينهم العداوة والبغضاء و قطيعة الرحم فمنع منه.
(باب مالايجوز من النحل،۱۴/۱۷۰تا۱۷۶مكتبه وحيديه)
بدائع صنائع:
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: ۹۰] .
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.
(كتاب الهبة :۸/۱۵۰،۱۱۳ قديمى كتب خانه)
المبسوط:
فالمذهب أنه ينبغي للوالد أن يسوي بين الأولاد في العطية عند محمد - رحمه الله - على سبيل الإرث للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف - رحمه الله - يسوى بين الذكور والإناث قال: - عليه الصلاة والسلام - «ساووا بين أولادكم حتى في القبل، ولو كنت مفضلا أحدا لفضلت الإناث».
(كتاب الهبة،۱۲-۱۱/۶۷ مكتبه عمرية)
تاتارخانية:
وسئل نجم الدين عن رجل له ثلاثة بنين كبار وكان دفع لواحد الابن في صحته مالا ليتصرف فيه ففضل و كثر ذلك فمات الأب،أيختص به هذا الابن أو يكون ميراثا عنه بينهم قال:إن أعطاه هبة فالكل له وإن دفع إليه ليعمل فيه للأب فهو ميراث.
(كتاب الهبه ،۱۴/۴۹۲ مكتبه اعزازيه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026