نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں اگر زید اسی موبائل کو 30 ہزار نقد پر عمر کے علاوہ کسی اور پر بیچ دے ،تو اس طرح کا عقد کرنا شرعا جائز ہے اور عمر کیلئے 5 ہزار روپے نفع لینا شرعا جائز ہے،البتہ سود کی رقم وصول کرنے کیلئے حیلہ بازی کرنا خلاف اولی ہے،تاہم اگر زید اسی موبائل کو واپس عمر پر 30 ہزار نقد میں فروخت کرے ،تو اس طرح عقد کرنا شرعا جائز نہیں اور اس صورت میں عمر کیلئے 5 ہزار روپے نفع لینا شرعا جائز نہیں ہے۔
جیسا کہ فتاوی دارالعلوم زکریا میں ہے:
سوال:عمر زیدکے پاس گیا اور اس سے دس ہزار کا قرضہ طلب کیا ،زید نے قرض دینے سے انکار کردیا،ہاں یہ کہا کہ میرے پاس مشین ہے اس کی قیمت دس ہزار ہے،وہ تم 13 ہزار میں خریدلواور چھ ماہ کے بعد مجھے ثمن ادا کرنا،عمر نے مشین خریدلی اور بازار میں یا پھر واپس زید کو 10 ہزار نقد میں فروخت کی شرعا اس کا کیا حکم ہے؟اور کیا بینکوں کا مرابحہ بیع عینہ کے قبیل سے ہے؟
جواب:بصورت مسئولہ یہ عقد بیع عینہ میں داخل ہے اور اس کی مختلف صورتیں ہیں:
(1)زید عقد میں ہی شرط لگا دے کہ مشین واپس مجھے دس ہزار میں فروخت کروگے،یہ صورت دو وجہ سے ناجائز ہے(الف)شرط کی وجہ سے (ب)" شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن" کی وجہ سے یعنی بائع نے زیادہ قیمت پر بیچا اور کم قیمت پر خریدا ثمن کی ادائیگی سے پہلے۔
(2)دوسری صورت یہ ہے کہ بغیر شرط کے بیچ دے اور واپس فروخت کرنے کا وعدہ لے یا شرط بعد البیع لگا دے،یہ صورت بھی ناجائز ہے،کیونکہ اس میں بھی " شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن"پایا گیا ،ہاں ثمن کی ادائیگی کے بعد جائز ہے۔
(3)تیسری صورت یہ ہے کہ زید عمر کو وہ چیز 13 ہزار میں بیچ دےپھر عمر اس کو بکر کے ہاتھ فروخت کرے اور بکر اس کو پھر زید کے ہاں فروخت کرے اس صورت میں امام محمد ؒ اور امام ابویوسفؒ کا اختلاف ہے،امام محمد ؒ فرماتے ہیں:
"هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا."اور اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں ،ملاحظہ ہو علامہ قاضیخانؒ فرماتے ہیں:
"ثم إن المستقرض يبيعها من غيره بأقل مما اشترى ثم ذلك الغير يبيعها من المقرض بما اشترى.....وهذه الحيلة هي العينة التي ذكرها محمد رحمه الله.
امام ابویوسف ؒ کے ہاں جائز ہے بلکہ اس کو قابل اجر فرماتے ہیں ،نیز مشایخ بلخ بھی جائز کہتے ہیں،فتاوی قاضی خان میں ہے:
وقال مشايخ بلخ بيع العينة في زماننا خير من البيوع التي تجري في أسواقنا وعن أبي يوسف أنه قال العينة جائزة مأجورة وقال أجره لمكان فراره من الحرام.
(4)چوتھی صورت یہ ہے کہ زید عمر کو مشین فروخت کرےاور عمر اس کو بازار میں بکر کے ہاتھ فروخت کرےاور زید کے پاس واپس ہی نہ آئے،یہ صورت امام محمد ؒ کے نزدیک بھی جائز ہے۔
اسی طرح اسلامی بینکوں والا مرابحہ بھی بیع عینہ نہیں ہے،کیونکہ فروخت شدہ سامان واپس بینک کے پاس نہیں آتا۔
(فتاوی دارالعلوم زکریا،ج5،ص282،ط:زمزم پبلشرز)
كمافي سنن أبي داود:
حدثنا سليمان بن داود المهري، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حيوة بن شريح، ح وحدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا عبد الله بن يحيى البرلسي، حدثنا حيوة بن شريح، عن إسحاق أبي عبد الرحمن، قال سليمان: عن أبي عبد الرحمن الخراساني، أن عطاء الخراساني، حدثه أن نافعا حدثه، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة،وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم».
(باب في النهي عن العينة،رقم3462،ج3،ص274،ط: المكتبة العصرية)
وفي فتح القدير:
وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة.
(كتاب الكفالة،ج7،ص213،ط:دارالفكر)
وفى العناية:
وحاصل ذلك أن شراء ما باع لا يخلو من أوجه: إما أن يكون من المشتري بلا واسطة أو بواسطة شخص آخر. والثاني جائز بالاتفاق مطلقا: أعني سواء اشترى بالثمن الأول أو بأنقص أو بأكثر أو بالعرض. والأول إما أن يكون بأقل أو بغيره، والثاني بأقسامه جائز بالاتفاق. والأول هو المختلف فيه.... ونحن لم نجوزه بالأثر والمعقول.
(كتاب البيوع،ج6،ص433،ط:دارالفكر)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى.
(مطلب:بيع العينة،ج5،ص326،ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔