نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب ایک آدمی کی طرف سے مال ہو اور دوسرے کی طرف سے عمل ہو تو ایسے عقد کو شریعت کی اصطلاح میں مضاربت کہتے ہیں اورمضاربت کا حکم یہ ہے کہ مضارب حقیقی اخراجات اور اپنے متعین شدہ نفع کے حصے کےعلاوہ کسی قسم کی رقم مضاربت سے نہیں لے سکتا ،
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا معاملہ چونکہ مضاربت کاہے اس کا حکم یہ ہے کہ اگروہ 15 فیصد ،ایک میٹیریل میں کی ہوئی مضاربت کےحقیقی اخراجات سے کم ہو یا اس کے برابرہو تومضارب ( کاروبار کرنے والے)کےلیے اس 15 فیصد کا لینا جائز ہے،اوراگر 15 فیصد(چاہے ایک آدمی سے لیا ہو یا چند آدمی سے الگ الگ طور پر آئندہ مضاربت میں شامل کر کے لینے کا ارادہ ہو) حقیقی اخراجات سے زیادہ ہے تو اس کا لینا جائز نہیں ، کیونکہ مضارب مشترکہ کاروباری اخراجات میں صرف مضاربت پر ہونے والے حقیقی اخراجات کو (مضاربت کے) نفع سے لے سکتا ہے اس کے علاوہ اخراجات کے لیے رقم نہیں لے سکتا، اور چونکہ اس طرح سے چلتے ہوئے کاروبار میں ایک ا ئیٹم کےحقیقی اخراجات کا معلوم کرنا مضارب کے لیےعملاً بہت مشکل ہے؛اس لیے اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ مضاربت کے عقد کو ختم کر کے نئے سرمایہ لگانے والے لوگوں کے ساتھ تمام کاروبار میں شرکت کا عقد کیا جائے جس میں تمام اخراجات نکا ل کر منافع آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے- چلتے ہوئے کاروبار میں شرکت کا طریقہ معلوم کرنے کے لیے اس فتوی کے ساتھ دار الافتاء سے جاری شدہ فتوی منسلک کیا جا رہا ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔
كما في الدرالمختار مع ردا لمحتار:
كِتَابُ الْمُضَارَبَةِ.(هِيَ) لُغَةً مُفَاعَلَةٌ مِنْ الضَّرْبِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ السَّيْرُ فِيهَا وَشَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ….(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ (وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا) عِنْدَ الْعَقْدِ.
وَمِنْ شُرُوطِهَا: كَوْنُ نَصِيبِ الْمُضَارِبِ مِنْ الرِّبْحِ حَتَّى لَوْ شَرَطَ لَهُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ أَوْ مِنْهُ وَمِنْ الرِّبْحِ فَسَدَتْ، وَفِي الْجَلَّالِيَّةِ كُلُّ شَرْطٍ يُوجِبُ جَهَالَةً فِي الرِّبْحِ أَوْ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ فِيهِ يُفْسِدُهَا، وَإِلَّا بَطَلَ الشَّرْطُ وَصَحَّ الْعَقْدُ اعْتِبَارًا بِالْوَكَالَةِ
(كتاب المضاربة،ص:645،ج:5،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَهِيَ ضَرْبَانِ: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ) (أَوْ دَيْنًا) عَلَى مَا هُوَ الْحَقُّ؛ فَلَوْ دَفَعَ الْمَدْيُونُ لِأَحَدِهِمَا فَلِلْآخَرِ الرُّجُوعُ بِنِصْفِ - مَا أَخَذَ
(الشركة،ص:299،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
(وأما) (حكمها) فإنه أولا أمين وعند الشروع في العمل وكيل وإذا ربح فهو شريك وإذا فسدت فهو أجير وإذا خالف فهو غاصب
(في تفسير المضاربة،ص:285،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي كنزالدقائق:
فإن سافر فطعامه وشرابه وكسوته وركوبه في مال المضاربة وإن عمل في المصر فنفقته في ماله كالدّواء
(المضاربة،ص:522،ج:1،ط: دار البشائر الإسلامية)
وفي الهداية:
فصل فيما يفعله المضارب : قال ويجوز للمضارب أن يبيع ويشتري بالنقد والنسيئة لأن كل ذلك من صنيع التجار فينتظمه إطلاق العقد
(فصل فيما يفعله المضارب،ص:210،ج:3،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔