سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-640 Fatwa no: 1448-640

سرمایہ کاروں کے سرمایہ سے کاروبار کرنے کی شرعی نوعیت اور منافع و کاروباری اخراجات کی تقسیم کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا اپنا ایلومینیم کا کاروبار ہے اور میں دوسرے لوگوں سے بھی کاروبار کیلئے پیسے لیتا ہوں جس پر میں ان کو فیصد طے کر کے نفع دیتا ہوں۔اب تک صرف ایک آدمی سے کاروبار کیلئے پیسہ لیا ہے جبکہ آئندہ قریب میں اور انوسٹرز کو بھی ساتھ ملانے کا ارادہ ہےکام کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ لوگوں سے میں جو پیسے کاروبار کیلئے لیتا ہوں اس کو میں اپنے کاروبار میں استعمال نہیں کرتا بلکہ اس کو الگ مٹیریل میں استعمال کرتا ہوں اور وہ مٹیریل کہ جس میں میں نے دوسرے ساتھی کا پیسہ لگایا ہوتا ہے اس میں پھر میرا پیسا بالکل نہیں ہوتا مثال کے طور پر شیشہ یا فریم وغیرہ کا کام میں اپنے پیسے سے کرتا ہوں تو پائپ وغیرہ یا اسی طرح کسی دوسری چیز میں دوسرے ساتھی کا پیسہ لگاتا ہوں البتہ اس کا مال میرے ہی دفتر یا گودام میں پڑا ہوتا ہے اور میرے ملازمین ہی اس کا مال لاتے بھی ہیں اور آگے اس کا بنانا یا لگانا وہ بھی میں اپنے ملازمین سے ہی کرواتا ہوں۔دوسرے ساتھی سے لئے ہوئے پیسے سے جو منافع ہوتا ہے اس میں سے پہلےمیں 15 فیصد پیسہ کاروباری اخراجات کیلئے نکال لیتا ہوں اور باقی منافع ہمارے درمیان طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوتا ہے۔ کاروباری اخراجات کی تفصیل درج ذیل ہیں؛ (1)دفتر اور گودام کا کرایہ(گودام میں اس کے پیسے سے لایا ہوا مال بھی رکھنا ہوتا ہے بوقت ضرورت) (2)ایک بندہ رکھا ہوا ہو جو میرے تمام کاروبار کے اکاؤنٹس دیکھتا رہتا ہے اور حکومت کے ساتھ ان اکاؤنٹس کے حوالہ سے جو معاملات ہوتے ہیں ان کوسنبھالتاہے )میرے اکاؤنٹ میں چونکہ اس آدمی کا پیسہ بھی آتاجاتا ہے جس نے کاروبار کے لیے پیسہ دیا ہوتا ہے اس لیےیہ بندہ اس لحاظ سے اس دوسرے ساتھی کی رقم کے معاملات بھی سنبھالتا ہے)۔ (3)سالانہ کافی ٹیکس بھی مجھے بھرنا پڑتا ہے اور وہ ٹیکس کاروباری آمدنی کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔ (4)ہم آرڈر دینے والوں کو اپنا ریٹ سوفٹ وئیر کے ذریعے بھجواتے ہیں اور اس سوفٹ وئیر کے ہم سے چارجز لئے جاتے ہیں ۔ (5)کبھی کسی جگہ سے مال وغیرہ اٹھانے کیلئے ہمیں اپنا فیول یا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے (یہ مال جس کے فیول کے لیے ہم رقم استعمال کرتے ہیں یہ کبھی اس کا ہوتا ہے کبھی میرا اپنے کاروباری مال ہوتا ہے)۔ (6)ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو 15 فیصد دوسرے ساتھی کے پیسے سے حاصل ہونے والے منافع سے میں نکالتا ہوں وہ اتنا نہیں ہوتا کہ میرے تمام کاروباری اخراجات کو پورا کرسکے کیونکہ وہ رقم زیادہ سے زیادہ کوئی 8 سے 10 ہزار تک ہوگی اور اکثر اس سے کم ہی ہوتی ہے جبکہ میرے صرف دفتر کا کرایہ 70 ہزار ہے اور باقی چیزیں جن کو اوپر ذکر کر دیا اس کےاخراجات الگ سے ہیں اس لئے مذکورہ 15 فیصد رقم سے ذکر شدہ مصارف میں سب سے کم مصرف مثلا ً سافٹ وئیر کے چارجز یا مال اٹھانے کیلئے فیول کا خرچہ بھی پوری طرح نہیں نکلتا یا کبھی کبھار ان میں سے کسی ایک کا پورا خرچہ اس 15 فیصد سے نکل آتا ہے۔ اس کے علاوہ میرے اپنے کاروبار سے جو منافع نکلتا ہے اس سے میں 15 فیصد رقم کاروباری اخراجات کیلئے نہیں نکالتا بلکہ اس کے لئے میں اپنے ذاتی پیسے استعمال کرتا ہوں۔ اب اس ساری تفصیل کے بعد یہ رہنمائی درکار ہے کہ دوسرے ساتھیوں سے پیسے لیکر میں جو اس پر کاروبار کرتا ہوں وہ مضاربت ہے یا مشارکت؟اور مضاربت یا مشارکت میں سے جو بھی ہو مندرجہ بالا ترتیب کے مطابق جائز ہے یا نہیں ؟اگر کوئی چیز اس میں سے ناجائز ہے تو اس کا متبادل اور جائز صورت کی بھی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ جب ایک آدمی کی طرف سے  مال ہو اور دوسرے کی طرف سے عمل ہو تو ایسے عقد کو شریعت کی اصطلاح میں  مضاربت کہتے ہیں  اورمضاربت کا حکم یہ ہے  کہ مضارب  حقیقی اخراجات اور اپنے  متعین شدہ نفع کے حصے کےعلاوہ کسی  قسم کی     رقم مضاربت سے نہیں لے سکتا ،
لہذا صورت مسئولہ  میں  مذکورہ شخص کا    معاملہ چونکہ  مضاربت  کاہے اس کا حکم یہ ہے کہ اگروہ 15  فیصد  ،ایک میٹیریل میں کی ہوئی  مضاربت کےحقیقی اخراجات سے   کم   ہو یا  اس کے برابرہو تومضارب ( کاروبار کرنے والے)کےلیے  اس 15  فیصد کا لینا جائز ہے،اوراگر 15 فیصد(چاہے ایک آدمی سے لیا ہو یا چند آدمی سے الگ الگ  طور پر  آئندہ  مضاربت میں شامل کر کے لینے کا ارادہ ہو)  حقیقی اخراجات سے زیادہ ہے تو  اس کا لینا جائز  نہیں ، کیونکہ مضارب  مشترکہ کاروباری اخراجات میں صرف مضاربت پر  ہونے   والے حقیقی اخراجات کو (مضاربت کے) نفع سے  لے سکتا ہے اس  کے علاوہ  اخراجات کے لیے رقم نہیں لے سکتا،   اور چونکہ اس  طرح سے چلتے ہوئے کاروبار میں  ایک ا ئیٹم کےحقیقی اخراجات کا  معلوم کرنا  مضارب کے لیےعملاً  بہت مشکل ہے؛اس لیے اس کی  بہتر صورت یہ ہے  کہ مضاربت کے عقد کو ختم کر کے   نئے سرمایہ لگانے والے لوگوں کے ساتھ تمام کاروبار میں شرکت کا عقد کیا جائے جس میں تمام اخراجات نکا ل کر  منافع آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے- چلتے ہوئے کاروبار میں  شرکت کا طریقہ معلوم کرنے کے لیے  اس فتوی کے ساتھ  دار الافتاء سے جاری شدہ فتوی منسلک کیا جا رہا ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔
كما في الدرالمختار مع ردا لمحتار:
كِتَابُ الْمُضَارَبَةِ.(هِيَ) لُغَةً مُفَاعَلَةٌ مِنْ الضَّرْبِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ السَّيْرُ فِيهَا وَشَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ….(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ (وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا) عِنْدَ الْعَقْدِ.
وَمِنْ شُرُوطِهَا: كَوْنُ نَصِيبِ الْمُضَارِبِ مِنْ الرِّبْحِ حَتَّى لَوْ شَرَطَ لَهُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ أَوْ مِنْهُ وَمِنْ الرِّبْحِ فَسَدَتْ، وَفِي الْجَلَّالِيَّةِ كُلُّ شَرْطٍ يُوجِبُ جَهَالَةً فِي الرِّبْحِ أَوْ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ فِيهِ يُفْسِدُهَا، وَإِلَّا بَطَلَ الشَّرْطُ وَصَحَّ الْعَقْدُ اعْتِبَارًا بِالْوَكَالَةِ
(كتاب المضاربة،ص:645،ج:5،ط:دارالفكر)

وفيه ايضا:
(وَهِيَ ضَرْبَانِ: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ) (أَوْ دَيْنًا) عَلَى مَا هُوَ الْحَقُّ؛ فَلَوْ دَفَعَ الْمَدْيُونُ لِأَحَدِهِمَا فَلِلْآخَرِ الرُّجُوعُ بِنِصْفِ - مَا أَخَذَ
(الشركة،ص:299،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:            
(وأما) (حكمها) فإنه أولا أمين وعند الشروع في العمل وكيل وإذا ربح فهو شريك وإذا فسدت فهو أجير وإذا خالف فهو غاصب
(في تفسير المضاربة،ص:285،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي كنزالدقائق:
فإن سافر فطعامه وشرابه وكسوته وركوبه في مال المضاربة وإن عمل في المصر فنفقته في ماله كالدّواء
(المضاربة،ص:522،ج:1،ط: دار البشائر الإسلامية)
وفي الهداية:
فصل فيما يفعله المضارب : قال ويجوز للمضارب أن يبيع ويشتري بالنقد والنسيئة لأن كل ذلك من صنيع التجار فينتظمه إطلاق العقد
(فصل فيما يفعله المضارب،ص:210،ج:3،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026