سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-641 Fatwa no: 1448-641

نو لاکھ کے موجودہ کاروبار میں پانچ لاکھ شامل کرکے نفع کی تقسیم کی شرعی صورت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے موجودہ سٹور ( کاروبار) کی قیمت نو لاکھ روپے ہے اور ایک آدمی میرے ساتھ مزید پانچ لاکھ شامل کر کے کاروبار کرتا ہے، انداز اس میں مجھے ماہانہ 10 فیصد بچت ہو تی ہے ،ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ ماہانہ سیل شمار کر کے10 فیصد بچت نکال کراس میں سے پہلے خرچہ ( دکان کا کرایہ 31000،بل 5000سے 10000 ہزاراور ایک مزدور کی تنخواہ 25000) نکالا جائے گا پھر باقی بچت کو چودہ لاکھ پر تقسیم کر کے پانچ لاکھ کا نفع الگ کیا جائے گا( یعنی جس نے نو لاکھ لگائے ہیں وہ نولاکھ پر ہونے والے نفع کو خودلے لے گا) پھر پانچ لاکھ کی بچت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا آیا اس طرح سے تقسیم کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں   ایک شریک کا(جس نے نو لاکھ روپے  لگائے ہیں )مخصوص سرمایہ(نو لاکھ) پر  نفع لے کر باقی پانچ لاکھ  کے( جو مضاربت کے طور پر ہیں    ) نفع کو فیصد(آدھا آدھا) کے   اعتبار سےتقسیم کرنا  درست ہے  ،کیونکہ مذکورہ شخص کا  اپنا  ذاتی سرمایہ نو لاکھ  ہے اور دوسرے شخص کے پانچ لاکھ   بطور سرمایہ کے  شامل  ہیں اور کام بھی  خود کر رہا ہے یہ صورت مضاربت اور مشارکت کا مجموعہ ہے   اس میں عمل کرنے والے شخص (سٹور والے )  کا اپنے  ذاتی مال  کے نفع کے بعد مضاربت کے مال (پانچ لاکھ)سے  بطور  مضارب کے نفع لینا جائزہے،  البتہ     ماہانہ نفع   کی مقدار    کا صحیح طور پر  اندازہ لگانا مشکل ہے جیسا کہ سوال میں  مذکور ہے(کہ تقریباً10٪ نفع ہوتا ہے)؛اس لیے بہتر یہی ہے  کہ جو نفع  اندازہ  سے طے ہوا ہے اس کو حتمی نہ  سمجھا جائے ،بلکہ سا ل کے آخر میں  حساب کر لیا جائے  اگر  اس میں کو ئی کمی پیشی ہوگئی ہو تو اس   میں ایک دوسرے سے رجوع کر لیاجائے۔
كما في الدرالمختار مع ردالمحتار:
كِتَابُ الْمُضَارَبَةِ.(هِيَ) لُغَةً مُفَاعَلَةٌ مِنْ الضَّرْبِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ السَّيْرُ فِيهَا وَشَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ….(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ (وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا) عِنْدَ الْعَقْدِ.
وَمِنْ شُرُوطِهَا: كَوْنُ نَصِيبِ الْمُضَارِبِ مِنْ الرِّبْحِ حَتَّى لَوْ شَرَطَ لَهُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ أَوْ مِنْهُ وَمِنْ الرِّبْحِ فَسَدَتْ، وَفِي الْجَلَّالِيَّةِ كُلُّ شَرْطٍ يُوجِبُ جَهَالَةً فِي الرِّبْحِ أَوْ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ فِيهِ يُفْسِدُهَا، وَإِلَّا بَطَلَ الشَّرْطُ وَصَحَّ الْعَقْدُ اعْتِبَارًا بِالْوَكَالَةِ
(كتاب المضاربة،ص:645،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
(وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مَعْلُومَ الْقَدْرِ، فَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا تَفْسُدُ الشَّرِكَةُ؛ لِأَنَّ الرِّبْحَ هُوَ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ، وَجَهَالَتُهُ تُوجِبُ فَسَادَ الْعَقْدِ كَمَا فِي الْبَيْعِ وَالْإِجَارَةِ.
(وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ، لَا مُعَيَّنًا، فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً، أَوْ مِائَةً، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً؛ لِأَنَّ الْعَقْدَ يَقْتَضِي تَحَقُّقَ الشَّرِكَةِ فِي الرِّبْحِ وَالتَّعْيِينُ يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ لِجَوَازِ أَنْ لَا يَحْصُلَ مِنْ الرِّبْحِ إلَّا الْقَدْرُ الْمُعَيَّنُ لِأَحَدِهِمَا، فَلَا يَتَحَقَّقُ الشَّرِكَةُ فِي الرِّبْحِ.
(جوز انواع الشرط،ص:59،ج:6،ط: دار الكتب العلمية)
وفيه ايضا:
إذَا شَرَطَا الرِّبْحَ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ مُتَسَاوِيًا أَوْ مُتَفَاضِلًا، فَلَا شَكَّ أَنَّهُ يَجُوزُ وَيَكُونُ الرِّبْحُ بَيْنَهُمَا عَلَى الشَّرْطِ سَوَاءٌ شَرَطَا الْعَمَلَ عَلَيْهِمَا أَوْ عَلَى أَحَدِهِمَا
(جوز انواع الشرط،ص:62،ج:6،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفتاوي الهندية:
وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة
(الفاظ تصح الشركة،ص:302،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
 أن يكون الربح معلوم القدر بجزء محدد: أي بحيث تكون حصة كل شريك من الربح نسبة معلومة منه، كخمسه أو ثلثه أو عشرة في المئة، فإن كان الربح مجهولاً تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالة المعقود عليه تستوجب فساد العقد.
(أن يكون الربح معلوم القدر،ص:3890،ج:5،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026