سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-644 Fatwa no: 1448-644

کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے پاس نیچے بیٹھ کر قرآن پاک پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی شرعی عذر کی بناء پر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے وہ مسجد میں نماز سے پہلے نماز کے انتظار میں کرسی پر بیٹھا ہوتا ہےیا نماز کے بعد ذکر وغیرہ کرتا ہے تو اس وقت لوگ اس کے قریب بیٹھ کرقرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اس صورت میں قرآن نیچے اور وہ کرسی پر بیٹھنے والا آدمی اوپر ہوتا ہے تو کیا اس طرح اس کے قریب بیٹھ کر قرآن پڑھنے میں قرآن کی بے ادبی تو نہیں ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگرمسجد میں   قرآن کی تلاوت کے لیے دوسری جگہ موجود  ہے تو اس  صورت میں جان بوجھ کرکرسی پر بیٹھے ہوئے  شخص کے  پاس نیچے بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرنا مکروہ ہےبشرطیکہ عذر کی وجہ سے کرسی پر بیٹھنے والا مسجد کے ایک کونے میں ہو، اور اگر مسجد میں بیٹھنے کے لیےکوئی اور جگہ موجود نہ ہو  تو اس صورت میں کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے پاس  نیچے بیٹھ کر تلاوت کرنا بلاکراہت جائز ہے۔
الفتاوی الحديثية:
ويحرم مد الرجل إلى شيء من القرآن أوكتب العلم انتهى وفي إطلاق الحرمة وقفة بل الأوجه عدمها إذا لم يقصد بذلك ما ينافي تعظيمه .
(التسبيح والقرآن،۱۶۴/۱، دارالفکر)
الفتاوی الهندية:
رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة لأن تعظيم القرآن والفقه واجب كذا في فتاوى قاضي.
( وفي الصلاة والتسبيح وقراءة القرآن،۹۴/۴، رشيدية)
الدرالمختار مع ردالمحتار:
( ويكره ) تحريما ( استقبال القبلة بالفرج ) ولو ( في الخلاء ) بالمد بيت التغوط وكذا استدبارها ( في الأصح كما كره ) لبالغ ( إمساك صبي ) ليبول ( نحوها و ) كما كره ( مد رجليه في نوم أو غيره إليها ) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير ( أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عن المحاذاة ) فلا يكره.
( قوله مد رجليه ) أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور ط ( قوله أي عمدا ) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط .( قوله لأنه إساءة أدب ) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط ، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته .قال : وهذا يقتضي التحريم فليحرر ( قوله إلا أن يكون ) ما ذكر من المصحف والكتب ؛ أما القبلة فهي إلى عنان السماء ( قوله مرتفع ) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلا ط قلت : أي بما تنتفي به المحاذاة عرفا ، ويختلف ذلك في القرب والبعد ، فإنه في البعد لا تنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقا تأمل                        
(فرع لا بأس باتخاذ المسبحة لغير رياء،۶۵۵/۱، دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026