سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-645 Fatwa no: 1448-645

سونے کے زیورات میں ملاوٹ شدہ دھات اور نگینوں کی قیمت کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سناروں سے کوئی بھی چیز سونے کی بنوائی جاتی ہے تو وہ مکمل طور پر سونے کی نہیں ہوتی اس میں لازماً کچھ نہ کچھ چاندی یا دوسری دھاتیں وغیرہ ملاکر بنائی جاتی ہے ۔۔۔۔ پاکستان میں تقریبا ہر جگہ یہ اصول ہے کہ سیٹ بنواتے وقت تو سونے کے سیٹ میں لگی ہوئی دیگر دھات کی قیمت وصول کریں گے ،لیکن جب آپ وہی چیز ان کو بیچیں گے تو وہ آپ کو صرف سونے کی قیمت دیں گے اور نگینےیا دیگر دھات ( جو سیٹ میں لگے ہوئے ہیں) اس کے قیمت نہیں دیں گے ؛کیوں کہ وہ اس چیز کو سیٹ میں شامل ہی نہیں کرتے،کیا اس طرح سے سونے کے زیورات کی خریدوفروخت جائز ہے؟نیز اگر ناجائز ہے تو یہ بیع کی کونسی ممنوعہ صورت ہے ؟
جواب :

شریعت کی رو سے ہر انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مملوکہ  چیز كو جس طرح  چاہے  بیچ سکتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سناروں کا دیگر دھاتوں اور نگینوں  کو سونے کے زیورات میں شامل کر کے بیچنا یا دیگر دھاتوں اور نگینوں  کو سونے کے زیورات سے نکال کر پیسوں کے بدلے میں خریدنا جائز ہے بشرطیکہ خریدنے والے  کو یہ بتادیا جائے کہ اس سیٹ میں  دیگر دھات اور نگینوں کی قیمت بھی شامل ہو گی  اسی طرح   خریدتے وقت بیچنے والے کو یہ بتا دیا جائے کہ اس میں  دیگر دھات اور نگینوں کی قیمت شامل نہیں  ہو گی  ؛تا کہ کوئی دھوکہ نہ ہو۔
كما في الصحيح البخاري:
عبد الله بن الحارث بن نوفل عن حكيم بن حزام قال قال رسول الله {صلى الله عليه وسلم} البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو قال حتى يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما۔
(كتاب البيوع،ص:294،ج:3،ط:دار الفكر)
كما في الدر المختار مع ردالمحتار:
( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر
( قوله فإن نقد أحدهما جاز إلخ ) نقل المسألة في البحر عن المحيط لكنه وقع فيه تحريف حيث قال : وإن تفرقا بلا قبض أحدهما جاز وصوابه لم يجز كما عبر الشارح ، ونبه عليه الرملي ثم إنه نقل في البحر قبله عن الذخيرة في مسألة بيع فلس بفلسين بأعيانهما أن محمدا ذكرها في صرف الأصل ، ولم يشترط التقابض ، وذكر في الجامع الصغير ما يدل على أنه شرط فمنهم من لم يصحح الثاني ، لأن التقابض مع التعيين شرط في الصرف ، وليس به ومنهم من صححه ، لأن الفلوس لها حكم العروض من وجه ، وحكم الثمن من وجه فجاز التفاضل للأول واشترط التقابض للثاني ا هـ فيتعين حمله على أنه لا يشترط منهما جميعا بل من أحدهما فقط .فصار الحاصل أن ما في الأصل يفيد اشتراطه من أحد الجانبين ، وما في الجامع اشتراطه منهما ، ثم إن الذي مر اشتراط التعيين في البدلين أو أحدهما مع القبض في المجلس فلو غير معينين لم يصح وإن قبضا في المجلس فقوله لما مر.
 (باب الصرف ،ص:130،ج:20،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
( فلو باع ) النقدين ( أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه ) أي المجلس صح قوله : فلو باع النقدين ) تفريع على قوله وإلا شرط التقابض فإنه يفهم منه أنه لا يشترط التماثل ، وقيد بالنقدين ؛ لأنه لو باع فضة بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كما في البحر عن الذخيرة.
(باب الصرف،ص:407،ج:20،ط: دار الفكر)
وفي الفقه الإسلامي:
فإن اختلف جنسهما بأن بيع سوار فضة وزنه مقدار وزن عشرة دراهم بدينار ذهبي، أو تصارف اثنان ديناراً بعشرة دراهم فضية، ثم زاد أحدهما صاحبه درهماً وقبل الآخر، أو حط عنه درهماً من الدينار، صح الحط والزيادة باتفاق الحنفية، ويلتحقان بأصل العقد؛ لأن المانع من تصحيح العقد هو وجود الربا، واختلاف الجنس في العوضين يمنع تحقق الربا، إذ أن مبادلة الأموال الربوية يجوز فيها التفاضل حال اختلاف الجنس، ويمتنع حال اتحاد الجنس.إلا أنه يشترط في الزيادة قبضها في مجلس الزيادة.
(ما يجوز البيع فيه متفاضلاً، وما لا يجوز فيه البيع متفاضلاً،ص:346،ج:5،ط: دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026