نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں اگر رابعہ کی دادی کے دیگر ورثاء(بیٹے،بیٹیاں وغیرہ) موجود ہوں جس کی وجہ سے رابعہ اس کی وارث نہ بنتی ہو تو اس صورت میں اگر وہ سونے کے کانٹے مرحوم دادی کے کل مال کے ثلث سے نکل سکتے ہوں تو مرحومہ کی وفات کے بعد ان کے گھر والوں کا رابعہ کو سونے کے کانٹے دے دینے سے وصیت پوری ہو چکی ہے، لیکن اگر کانٹے کل مال کے ثلث سے زائد ہوں تو ثلث مال کے بقدرسونا یا اس کی قیمت رابعہ کو دی جائےاور کانٹوں کی باقی قیمت دیگر ترکہ کے ساتھ ورثاء آپس میں میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کر لیں ،تاہم اگر سارے ورثاء بالغ ہوں اور وہ اپنی خوشی سے ثلث سے زائد کانٹے دینے پر راضی ہوں تو دے سکتے ہیں ۔
المحيط البرهاني:
وإنفاذ وصاياه من ثلث ماله من غير تغيير ولا تبديل فمن بدله بعد ما سمعه فإنما إثمه على الذين يبدلونه إن الله سميع عليم.
(الوصايا ،۶۸/۲۲، ادارة القرآن)
الفقه الاسلامي:
وقت ثبوت ملكية الموصى به للموصى له :
حكم الوصية بمعنى الأثر المترتب على الشيء: هو انتقال ملكية الموصى به إلى الموصى له ملكاً جديداً بقبول الموصى له بعد وفاة الموصي، وبه تلزم الوصية بالاتفاق.
(الوصية،۱۰۳/۸،:رشيدية)
أيضا:
المطلب السابع ـ الوصية للوارث :
بحثت هذا الموضوع في شرط نفاذ الوصية المتعلق بالموصى له، وبينت رأي الأكثرين بعدم صحة ونفاذ الوصية للوارث إلا بإجازة الورثة .
(الوصية،۳۰/۸، رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔