سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-646 Fatwa no: 1448-646

سونے کے کانٹوں کی وصیت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رابعہ کی دادی نے زندگی میں اپنے دو سونے کی کانٹوں کے بارے میں یہ کہا تھا کہ میرے یہ کانٹے رابعہ کو دے دینا پھر ان کی وفات کے بعد ان کے گھر والوں نے وہ کانٹے رابعہ کو دے دیے، اب اس کانٹوں میں ہمارا بھی حصہ بنتا ہے یا نہیں ،اگر ہے تو اس کی تقسیم کس طرح ہو گی؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  اگر  رابعہ کی دادی کے دیگر ورثاء(بیٹے،بیٹیاں وغیرہ) موجود ہوں  جس کی وجہ سے  رابعہ اس کی وارث نہ بنتی   ہو  تو اس صورت میں اگر وہ سونے کے کانٹے  مرحوم دادی کے کل مال کے ثلث سے نکل سکتے  ہوں تو مرحومہ کی وفات کے بعد ان کے گھر والوں کا رابعہ کو سونے کے کانٹے دے دینے سے وصیت پوری ہو چکی ہے، لیکن اگر کانٹے کل مال کے ثلث سے زائد ہوں تو ثلث مال کے بقدرسونا یا اس کی قیمت  رابعہ کو  دی جائےاور کانٹوں کی باقی قیمت دیگر   ترکہ  کے ساتھ ورثاء آپس میں  میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کر لیں ،تاہم اگر سارے ورثاء بالغ ہوں  اور  وہ اپنی خوشی سے ثلث سے زائد  کانٹے دینے پر راضی ہوں  تو    دے سکتے ہیں ۔
المحيط البرهاني:
وإنفاذ وصاياه من ثلث ماله من غير تغيير ولا تبديل فمن بدله بعد ما سمعه فإنما إثمه على الذين يبدلونه إن الله سميع عليم.
(الوصايا ،۶۸/۲۲، ادارة القرآن)
الفقه الاسلامي:
وقت ثبوت ملكية الموصى به للموصى له :
حكم الوصية بمعنى الأثر المترتب على الشيء: هو انتقال ملكية الموصى به إلى الموصى له ملكاً جديداً بقبول الموصى له بعد وفاة الموصي، وبه تلزم الوصية بالاتفاق.
(الوصية،۱۰۳/۸،:رشيدية)
أيضا:
 المطلب السابع ـ الوصية للوارث :
بحثت هذا الموضوع في شرط نفاذ الوصية المتعلق بالموصى له، وبينت رأي الأكثرين بعدم صحة ونفاذ الوصية للوارث إلا بإجازة الورثة .
(الوصية،۳۰/۸، رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026