نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ مذکورہ عقد دو وجہ سے جائز نہیں ہے
(1)کاروبار میں شاگردہ کا صرف نفع وصول کرنا اور نقصان میں شریک نہ ہونا
(2)مالک کا متعین نفع دینا چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان ہو
یہ دونوں وجہیں شرکت کے عقد کوفاسد کر دیتی ہیں ،لہذا عقد شرکت کے صحیح ہونے کے لیے یہ صورت اختیار کی جائے کہ منافع کوحقیقی نفع میں سے فیصد کے اعتبار سے متعین کر لیں اور اس (شاگردہ)کو نقصان میں بھی شریک کریں پھر نقصان کی صورت میں مالک چاہے تو نقصان کا معاوضہ لے چاہے نہ لے ۔
كمافي المعاييرالشرعي:
شركةالعنان هي ان يشترك اثنان أوأكثربمال معلوم من كل شريك بحيث يحق لكل منهماالتصرف في مال الشركة،والربح بينهمابحسب الاتفاق والخسارةبقدرالحصص في رأس المال.
(الشركة المشاركة،رقم المعيار:12،ص:326)
وفي مجلة الاحكام:
الْمَادَّةُ (1348) إذَا لَمْ يُوجَدْ وَاحِدٌ مِنْ الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ السَّالِفَةِ الذِّكْرِ أَيْ الْمَالُ وَالْعَمَلُ وَالضَّمَانُ فَلَا اسْتِحْقَاقَ لِلرِّبْحِ. مَثَلًا إذَا قَالَ أَحَدٌ لِآخَرَ: اتَّجِرْ أَنْتَ بِمَالِكَ عَلَى أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مُشْتَرَكًا بَيْنَنَا فَلَا يُوجِبُ الشَّرِكَةَ , وَفِي هَذِهِ الصُّورَةِ لَا يَأْخُذُ حِصَّةً مِنْ الرِّبْحِ.
(في بعض الضوابط،ص:259،ج:1،ط: نور محمد)
وفي الهداية :
ولنا قوله صلى الله عليه وآله وسلم: "الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين" ولم يفصل،
(فصل،ج:3،ص:10،ط: دار احياء التراث العربي)
وفي تبيين الحقائق:
فَكَذَا الرِّبْحُ وَلَنَا قَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «الرِّبْحُ عَلَى مَا شَرَطَا وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ
الْمَالَيْنِ» وَلِأَنَّ الرِّبْحَ يُسْتَحَقُّ بِأَحَدِ ثَلَاثَةِ أُمُورٍ بِالْمَالِ وَالْعَمَلِ وَالضَّمَانِ
(كتاب الشركة،ص:318،ج:3، المطبعة الكبرى الأميرية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔