سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-648 Fatwa no: 1448-648

شوہر کی رضامندگی کے بغیر عدالت کانکاح کو فسخ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے 2019 میں شادی کی میری بیوی نے تقریباً ڈھائی سال خوشی سے گزارے ہیں میں نے اپنی بیوی کے تمام حقوق ،نفقہ اور علاج و معالجہ پورے کیے ہیں اور علاج کے ثبوت بھی موجود ہیں اب بھی میں گھر کو آباد کرنے کے لیے تیار ہوں ،لیکن میری بیوی نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کر دیا دعوی یہ کیا ہے کہ شوہر نان ونفقہ نہیں دیتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے عدالت نے فسخ نکاح کا حکم جاری کیا ہے اور ساتھ ہی 2020/10 سے یعنی جس وقت عورت نے تنسیخ نکاح کا دعوی کیا تھا اس وقت سے لے کر جب فیصلہ ہوا 2025/11 عدت کی مدت بھی شامل کر کے مجھ پر ماہانہ دس ہزار روپے بطور نان ونفقہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے مزید برآں عدالت نے بطور مہر دو تولہ سونا ادائیگی کا حکم صادر فرمایا ،حالانکہ بیوی کے دعوی دائر کرنے سے پہلے اس کو دو تولہ کے بجائے چار تولہ سونا میں نے د ے دیا تھا اب وہ مزید دوتولہ سونا کا عدالت کے ذریعے مطالبہ کر رہی ہے ،اور ہمارا ان سے یہ مطالبہ ہے کہ جو چار تولہ دیا تھا اس میں سے دو تولہ ہمیں واپس کیا جائے ۔اب پوچھنایہ ہے کہ 1: کیا شوہر کی رضامندگی کے بغیر عدالت نکاح فسخ کر سکتی ہے ؟ 2: کیا تنسیخ نکاح کی صورت میں عورت کو نان نفقہ دینا لازمی ہے ؟ 3 :کیا فسخ نکاح کی صورت میں مہر ادا کرنا لازمی ہے ؟
جواب :

 واضح رہے  عدالت یک طرفہ طور پر تنسیخِ نکاح کا اختیاراس وقت  رکھتی ہے جب بیوی  عدالت  میں نان نفقہ نہ دینے یا ازدواجی حقوق پورا نہ کرنے یا بے جا مارپیٹ اور تشدد کی بنیاد پر دعوٰی دائر کرے پھر اپنے دعوی کو ثابت بھی کرے تو  پھر  عدالت  بذریعہ سمن یا نوٹس کے شوہر کو مطلع کر کے صفائی کا کافی موقع دے اور اگر عدالت کے سامنے شوہر کا تعنت یعنی زیادتی ثابت ہو جائے تو عدالت اس کو پابند بنائے کہ یا تو بیوی کے تمام حقوق ادا کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دے اس کے بعد بھی اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کرے نہ ہی طلاق اور خلع پر راضی ہواور یا باوجود بار بار نوٹس ملنے کے عدالت میں حاضر ہی نہ ہو  تو عدالت یک طرفہ طور پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرنے کی مجاز ہوگی اور یہ ڈگری شرعاً معتبر سمجھی جائے گی۔
مذکورہ بالا تمہید کے بعد  اگر سوال میں ذکر کردہ تمام حالات حقائق پر مبنی ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا تو  آپ کے  پوچھے ہوئے   سوالات  کے جوابات بالترتیب  یہ ہیں 
(1): مذکورہ صورت میں  عدالت سے جاری شدہ خلع کی یک طرفہ ڈگری شرعاً معتبر نہیں ہےکیونکہ جب شوہر تمام حقوق ادا کر رہا ہے تو  اس صورت میں  خلع دینے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے ،لہذا  عدالت کا  فیصلہ معتبر نہیں ہو گا۔
(2):    چونکہ   بصورت مسئولہ  عورت بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں ہے اس لیے  ناشزہ(نافرمان) ہونے کی وجہ سے  وہ نان و نفقہ کی حق دار نہیں ہے 
(3): مہر عورت کا حق ہے جو بغیر ادائیگی یا معافی کے ساقط نہیں ہوتا،اس لیے مہر کا ادا کرنا شوہر پر لازم ہے ،لہذا جو  دو تولہ سونا بطور مہر  کے ادا کیاہے اس  کا واپس لینا جائز نہیں ہے 
نیز سوال کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے جو زائد دو تولہ سونا دیا ہے   وہ  مہر پر اضافے کے طور پر  دیا ہے جس کا واپس  لینا  شوہر کے لیے جائز نہیں ،لیکن اگر شوہر  اس بات کو  ثابت کر دے کہ میں نے یہ  بطور قرض یا عاریت کے طور پر اپنی بیوی کو دیا تھا  تو پھر وہ دو تولہ سونا واپس لے سکتا ہے ۔
كما في القرآن المجيد:
{فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُ وفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارً لِّتَعْتَدُوا}
(البقرة،پاره:2،آية:231)
وفي در المحتار:
( قوله : إلا إذا خافا ) استثناء منقطع ؛ لأن التفريق حينئذ مندوب بقرينة قوله فلا بأس لكن سيأتي أول الطلاق أنه يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة ويجب لو فات الإمساك بالمعروف فالظاهر أنه استعمل لا بأس عنا للوجوب اقتداء بقوله تعالى { فإن خفتم أن لا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به } فإن نفي البأس في معنى نفي الجناح فافهم .
(كتاب الطلاق،ص:328،ج:9،ط:دار الفكر)س
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ فَالْمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ.
الدُّخُولُ وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ، سَوَاءٌ كَانَ مُسَمًّى أَوْ مَهْرَ الْمِثْلِ حَتَّى لَا يَسْقُطَ شَيْءٌ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ إلَّا بِالْإِبْرَاءِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ،
(فَصْلٌ بَيَانُ مَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ،ص:291،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
في الفقه الاسلامي و ادلته:
والخلع يحدث بالتراضي، أما الفسخ فيمكن أن يتم بالتراضي أو بقضاء القاضي.
(٤/٣١٥٢،دار الفكر)
وفيه ايضا:
أخذ القانون في مصر وسورية بجواز التفريق القضائي بين الزوجين، عملاً بمذهب الجمهور غير الحنفية، فنصت المادة الرابعة من القانون المصري رقم (25) لسنة (1920) على حق التفريق بين الزوجة وزوجها، لعدم إنفاقه عليها، إذا طلبت الزوجة التفريق بالضرورة، سواء أكان عدم الإنفاق عليها بسبب إعساره، أم كان تعنتاً منه وظلماً. ويطلقها القاضي عليه وهو حاضر في البلد غير غائب، متى امتنع من تطليقها بنفسه، ولم يكن له مال ظاهر يمكن أن تفرض فيه نفقتها.
(٩/٧٠٤٢، دار الفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة 
نفسها منه
(النفقة،ص:545،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي مختصر القدوري:
وإذا مضت مدة لم ينفق الزوج عليها وطالبته بذلك فلا شيء لها إلا أن يكون القاضي فرض لها النفقةأو صالحت الزوج على مقدارها فيقضي لها بنفقة ما مض
(كتاب النفقات،ص:172،ج:1، دار الكتب العلمية)
وفي حيلة الناجزه:
قاضی کی تفریق بین الزوجین …..وہ حقوق جنہيں بزور عدالت  شوہر سے وصول کیا جا سکتا ہے اگر شوہر ان کی ادائيگی سے عاجز ہو  تو اس پر قانوناً واجب ہو جا تا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے …..(1)مجنون(2)متعنب (نان نفقہ نہ دینااوروظائف زوجيت) (3) نامرد(4)مفقودالخبر(5) غائب غیر مفقود الخبر۔
(قاضی کی تفریق بین الزوجین،ص:266،ج:1،ط: دار الأشاعت)
وفيه أيضا:
متعنت: اس شخص کو کہتے ہیں جو باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق …وغیرہ ادا نہ کرے…. اس کا حکم   زوجہ متعنت کو تفریق کا حق حاصل ہے
وهذاالحكم عند المالكية لا يختص بخشيةالزناوافلاس الزوجة لكن لم ناخذ علي الإطلاق بل اخذناه حيث وجدت الضرورةالمسوغة للخروج عن المذهب.
(حكم زوجه متعنت،ص:72،ج:1،ط:دار الإشاعت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026