سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-651 Fatwa no: 1448-651

صدقۂ فطر میں کھجور و کشمش کی قیمت کا اعتبار اور مالدار شخص کا گندم کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صدقہ فطر عام طور پےجو جنس عوام الناس میں استعمال ہوتی ہے اس سےادا کیا جاتا ہے،لیکن اب منظر عام پرکهجور، کشمش آئی ہے تو اب ان کی کس رقم پر یا کس شخص پر صدقہ فطر لاگو ہوگا ،اگر زیادہ مالدار شخص ہے اور وہ صدقہ فطر عام دستور کے مطابق گندم کے حساب سے دیتا ہے تو گناہ گار تو نہ ہو گا؟
جواب :

حدیث میں صدقۃ الفطر   ادا کرنے کے لیے  گندم،جو، کشمش اور کهجور  کا ذکر  آیا ہے کہ ان  چار وں میں سے کسی ایک کے  ذریعے صدقۃ الفطر  ادا کیا جا ئے تو ادا ہو جائے  گا   چاہے وہ جنس عوام الناس میں استعمال ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو،لہذا صورت مسئولہ  میں اگر کوئی مالدار شخص عام  دستور کے مطابق گندم کے  حساب سے  صدقہ فطر ادا کر دے تو صدقہ فطر ادا ہو جائے گا،لیکن بہتر یہ ہے فقراء کے لیے جس میں زیادہ نفع  ہو( یعنی کهجور،کشمش وغیرہ) تو مالدار شخص  اس کے  اعتبار سے  صدقہ فطر اداکرے ۔
كما في ردالمحتار:
(قَوْلُهُ: وَكَانَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - إلَخْ) أَخْرَجَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ يَوْمِ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ فَقَالَ أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ»
(صدقةالفطر،ص:358،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
وإنما تجب صدقة الفطر من أربعة أشياء من الحنطة والشعير والتمر والزبيب كذا في خزانة المفتين وشرح الطحاوي وهي نصف صاع من بر أو صاع من شعير أو تمر....وأما الزبيب ....وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - صاع، ....والأحوط أن يراعى فيه القيمة هكذا في محيط السرخسي.
(في صدقةالفطر،ص:191،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّا بَيَانُ جِنْسِ الْوَاجِبِ وَقَدْرِهِ وَصِفَتِهِ أَمَّا جِنْسُهُ وَقَدْرُهُ فَهُوَ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ وَهَذَا عِنْدَنَا..... عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا 
نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ
(فَصْلٌ بَيَانُ جِنْسِ الْوَاجِبِ فِي صَدَقَة الْفِطْر،ص:72،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026