نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ اگر مدرسے والوں کی طرف سے اس بات کی عمومی اجازت ہے کہ مدرسے کے طلباء کے علاوہ دوسرے مدرسے کا طالب علم (جو مہمان ہے )ناشتہ کر سکتا ہے تو پھر اس کے لیے اس مدرسے میں کھانا اور اس کے بدلے میں ملنے والی رقم کا لینا درست ہے ،لیکن اگر کھانا اور اس کے بدلے میں ملنے والی رقم اسی مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کے لیے مختص ہے تو اس صورت میں اس کا کھانا یا اس کے بدلے میں ملنے والی رقم کا لینا درست نہیں ، اگر اس نے اپنے آپ کو اسی مدرسے کا طالب علم ظاہر کر کے یا بغیر اطلاع دیے کھانا یا اس کے بدلے میں ملنے والی رقم لے لی تو یہ دھوکہ کے زمرے میں آتا ہے جس کا لوٹانا ضروری ہے ،چاہے وہ کسی بھی طریقہ سے مدرسے میں وہ واپس کر دے اگر وہ خود پہنچا نہیں سکتا تو ايزي پيسے كے ذريعے يا جيز كيش كے زريعے واپس كرے يا مدرسے والوں کو اس بات کی اطلاع کر دے کہ مجھ پر مدرسے کی اتنی رقم(فلاں کھانے کی وجہ سے یا بدلے میں پیسے ملنے کی وجہ سے ) باقی ہے میں اس کی ادائیگی جلد از جلد کر دوں گا ۔
كما في الدر المختار:
مطلب في حكم الوقف على طلبة العلم قوله ( وإن على طلبة العلم الخ ) ظاهره صحة الوقف عليهم لأن الغالب فيهم الفقر...؛والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أو لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم ثم السراج و البساط كذلك إلى آخر المصالح هذا إذا لم يكن معينا فإن كان الوقف معينا على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اه ....وقوله إلى آخر المصالح أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع
(مطلب في حكم الوقف على طلبة العلم،ص:366،ج:4 ،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
الْمَالِكُ لِلشَّيْءِ هُوَ الَّذِي يَتَصَرَّفُ فِيهِ بِاخْتِيَارِهِ وَمَشِيئَتِهِ،
(شروط لزوم النكاح،ص:327،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
وفي مجلة الأحكام:
الْمَادَّةُ (1192) كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ.
(الْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِيْ بَيَانِ بَعْضِ قَوَاعِدِ أَحْكَامِ الْأَمْلَاكِ،ج:1 ،ص:230 ٠،ط:نورمحمد)
وفي شرح المجلة:
( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔