سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-654 Fatwa no: 1448-654

تحریری طور پر ’’میں طلاق دیتا ہوں‘‘ اور ’’میں آزاد کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ لکھنے سے وقوعِ طلاق کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی کے بارے میں یہ تحریر لکھتا ہے میں ملک ساجد اپنے پورے ہوش وہواس میں لکھتا ہوں کہ میں کسی لڑکی کو چاہتا ہوں اس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتا وہ لڑکی میری زندگی ہے اور مجھے اپنی بیوی سمیرہ سے نفرت ہے وہ لڑکی بھی مجھ سے پیار کرتی ہے ہم دونوں خود کشی کرنے جا رہے ہیں اگر کسی نے ہمیں روکنے کی کوشش کی وہ ہمارا مجرم ہو گا،"میں اپنے پورے ہوش ہواس میں سمیرہ سید کو آزاد کرتا ہوں "میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں "، میں اس کی زندگی خراب کر سکتا ہوں؛کیونکہ میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں "میں اس کو آزاد کرتا ہوں "آج کے بعد وہ میرے کاغذات اور میری زندگی سے ختم ہو گئی ہے،لہذا میں نکاح کرنے جا رہا ہوں "میں اس کو طلاق دے کر طلاق دیتا ہوں اور سمیرہ سے کہہ دو میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ملک ساجد نے اپنے ہاتھوں سے یہ تحریر اپنی بیوی (سمیرہ) کے لیے لکھی اور آخر میں دستخط بھی کیے ہیں اور جبکہ ملک ساجد کا بیان ہے کہ مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ میں کیا لکھ رہا ہوں مذاق شغل سے لکھ رہا تھا ، طلاق کی نیت نہیں تھی ،نہ آزاد کرنے کے لفظ اور نہ طلاق کے الفاظ سے میری طلاق کی نیت تھی ہر گز طلاق کی نیت نہیں تھی ۔ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا طلاق ہو گئی یا نہیں ،رجوع کی کوئی صورت ہے یا نہیں ؛کیونکہ بندہ کو اپنی اس تحریر پر شدید افسوس اور پچھتاوا ہےاور اگر رجوع کی صورت ہو تو بندہ رجوع کے لیے بھی تیار ہے؟
جواب :

طلاق کے لیے زبان سے کہنا  ضروری نہیں ،بلکہ تحریر سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذاصورت مسئولہ   میں  مذکورہ شخص کی  بیوی پر ان الفاظ (سمیرہ  سید کو آزاد کرتا  ہوں  "میں طلاق دیتا ہوں  طلاق دیتا ہوں الخ)  کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں( چاہے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو ) ، اب  تین طلاقیں واقع  ہو   نے کی وجہ  سےبیوی  شوہر پر مکمل طور پر حرام ہو چکی ہے جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی  دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ،مگر یہ کہ کہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے  ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو عدت گزارنے كے بعد عورت اپنے پہلے شوہر سے نکاح  کر سکتی ہے،اب  انہیں  چاہیے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
(البقرة:آية:229،پاره:2)
وفي الدر المختار:
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى.... ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب 
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)

وفي رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب....... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة 
 (كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)
وفى المحيط البرهاني: 
يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة.فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدراً ومعنوناً وإنها على وجهين:الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.                                                              
(في الكنايات،ج:3،ص:268،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفتاوى الهندية: 
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب..... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
وفيه ايضا:
ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك ..... أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. ....يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء
(فصل في الطلاق بالكتابةوفي الكنايات،ج:1،ص:375،379،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026