نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںطلاق کے لیے زبان سے کہنا ضروری نہیں ،بلکہ تحریر سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذاصورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی بیوی پر ان الفاظ (سمیرہ سید کو آزاد کرتا ہوں "میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں الخ) کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں( چاہے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو ) ، اب تین طلاقیں واقع ہو نے کی وجہ سےبیوی شوہر پر مکمل طور پر حرام ہو چکی ہے جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ،مگر یہ کہ کہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو عدت گزارنے كے بعد عورت اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے،اب انہیں چاہیے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
(البقرة:آية:229،پاره:2)
وفي الدر المختار:
كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى.... ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)
وفي رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب....... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:247،ط: دار الفكر)
وفى المحيط البرهاني:
يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة.فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدراً ومعنوناً وإنها على وجهين:الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.
(في الكنايات،ج:3،ص:268،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفتاوى الهندية:
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب..... وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
وفيه ايضا:
ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك ..... أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. ....يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء
(فصل في الطلاق بالكتابةوفي الكنايات،ج:1،ص:375،379،ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔