سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-656 Fatwa no: 1448-656

"میری فلاں عورت سے شادی نہیں کی تو تجھے طلاق ہے" کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی بندہ اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تو نے میری فلاں عورت سے شادی نہیں کی تو تجھے طلاق ہے اوراس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو جائے تو کیااس عورت کی شادی کے ساتھ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی یانہیں؟
جواب :

 طلاق کو کسی ایسی شرط کے ساتھ معلق کرنا کہ اس کا وقوع مستقبل میں ہو سکتا ہے تو اس صورت میں طلاق  موقوف ہوتی ہے،لہذا صورت مسئولہ  میں جب مذکورہ عورت کی شادی  دوسری جگہ  ہو گئی تو اس كی وجہ سے اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع نہیں ہوگی ؛کیونکہ  اس بات کا امکان ہے کہ مستقبل میں اس عورت کو طلاق ہوجائے پھر اس کی شادی بیوی اپنے شوہر سے کرادے ،البتہ اس عورت (یعنی وہ  جس سے نكاح كرواناتھا)يا شوہرکے مرنے کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی ،کیونکہ اب  وہ امکان باقی نہیں رہا ۔ 
كما في الدرالمختارمع ردالمحتار:
لَكِنَّهُ لَمَّا عَلَّقَهُ بِالْمُسْتَقْبَلِ صَلُحَ جَمِيعُ زَمَانِ الِاسْتِقْبَالِ لِوُجُودِهِ فَلَا يَتَعَيَّنُ لَهُ وَقْتٌ آخَرُ إلَى أَنْ يَنْتَهِيَ إلَى آخِرِ جُزْءٍ مِنْ الْحَيَاةِ فَيَتَضَيَّقُ فَيَقَعُ.
(باب التعليق،ص:341،ص:3،ط:دارالفكر)
وفي البناية شرح الهداية:
(وإذا أضافه): أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) ش: لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط.
(اضاف الرجل الطلاق،ج:5،ص:413،ط: دار الكتب العلمية)
وفي بدائع الصنائع:
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق.
(فصل،ج:3،ص:126،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026