سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-657 Fatwa no: 1448-657

) لكھ کے بھیجناTakaq کے بجائے( (Talak )

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو میسج میں یہ الفاظ لکھ کر بھیجے: may tmahy talak deta ho takaq deta ho takaq deta ho meri trf sy talaq hai) ( اس میسج میں دو دفعہ لفظ طلاق کے بجائے تكاك کا لفظ استعمال کیا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ ان الفاظ سے کتنی طلاقیں اور کونسی طلاق بائن ،یا رجعی یا تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں رہنمائی فرمائیں؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص کا  طلاق کے بعد دو مرتبہ تكاك کے لفظ  لکھ کر بھیجنے سے  اس  کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ؛کیونکہ لفظ طلاق  اور اس سے ملتے جلتے الفاظ سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے  ،تاہم اگر اس بات پر گواه بنا یا ہوکہ  میں  بیوی  کو ڈرانے کے لیے لفظ تکاک کہہ رہا ہوں یا لکھ رہا ہوں اور اس سے میری مراد طلاق کی نہیں ہے تو پھر اس صور ت میں لفظ تکاک سے مزید  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،لیکن ایک طلاق رجعی واقع ہوگی  اور شوہر کو عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوگا۔
كمافي الدرا لمختار مع ردا لمحتار:
وَأَمَّا الطَّلَاقُ فَيَقَعُ بِهَا قَضَاءً (قَوْلُهُ: وَأَمَّا الطَّلَاقُ فَيَقَعُ بِهَا إلَخْ) أَيْ بِالْأَلْفَاظِ الْمُصَحَّفَةِ كَتَلَاقٍ وَتَلَاك وَطَلَاك وَطَلَاغٍ وَتَلَاغٍ
(الفاظ المصحفة،ص:18،ج:3،ط:دار الفكر)
وفي البحر الرائق:
ومنه الالفاظ المصحفة وهي خمسة تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك فيقع قضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول هذا، ولا فرق بين العالم والجاهل وعليه الفتوى. ومنه ثلاث تطليقات عليك طلقت ثلاثا،
(باب الفاظ الطلاق،ص:271،ج:3،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الفتاوي الهندية:
رجل قال لامرأته ترا تلاق. هاهنا خمسة ألفاظ. تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع ولا يصدق قضاء
قال الشيخ الإمام أبو بكر - رحمه الله تعالى - هذا استفتيت في تركي قال لامرأته ترا تلاك بالتاء والكاف وهو عندهم بالتركي الطحال فقال أردت به الطحال وما أردت به الطلاق وأفتيت أنه لا يصدق في القضاء
(الطلاق الصريح،ص:357،ج:1،ط:دار الفكر)
وفي البناية:
أن الكتاب كالخطاب، والكتاب وجد من موضع القضاء، فكان الخطاب من موضع القضاء فيكون حجة
(حكم كتاب القاضي،ص:40،ج:9،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026