نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ مفتی سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے سوال کے سچے یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی تمام تر ذمہ داری مستفتی پر ہوتی ہے،نیز غلط بیانی سے فتوی حاصل کر لینے کے باوجود بھی حلال چیز حرام نہیں ہوتی اور حرام حلال نہیں ہوتا ،بلکہ حلال بدستور حلا ل رہتا ہے اور حرام بدستور حرام رہتا ہے اور جھوٹ بول کر اپنے مطلب کی بات حاصل کرلینے والے پر ہی اس کا سارا وبال رہتا ہے ۔
مذکورہ صورت میں چونکہ میاں بیوی کے درمیان طلاق کے وقوع اور عدم وقوع میں اختلاف ہے اور اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان میں سے کون سچاہے اور کون غلط بیانی سے کا م لے رہا ہے اس لیے اس مسئلہ کا مطلق حکم لکھا جاتا ہے دونوں اپنی آخرت کے وبال اور جوابدہی کا خوف کر کے اس کے مطابق جو صحیح صورت ہو گی اس پر عمل کر لیں ۔
بصورت مسئولہ اگر بیوی کے پاس طلاق پر گواہ موجود ہو ں تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا بیوی کی بات معتبر ہوگی اور اس پر( تین سال پہلے دی ہوئی طلاق کے ساتھ) تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہو تو شوہر کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہو گی اور عورت پر طلاق واقع نہیں ہو گی ،تاہم چونکہ شوہر اس سے پہلے ایک طلاق دے چکا ہے اس لیے اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ،نیز اگر شوہر قسم سے انکار کر لے تو ایسی صورت میں بھی عورت کے دعوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ،تاہم اگر عورت اپنے بیان میں سچی ہو اور اس کو طلاق کا یقین ہو،لیکن گواہ نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کے ثابت کرنے سے قاصر ہو تو ایسی صورت میں طلاق کے عدم وقوع کے باوجود بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو خود پر قابو نہ دے اور کسی بھی ممکن طریقے سے اپنی جان چھڑا کر شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے۔
کما في القرآن المجيد:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ
(البقرة،آية:282،پاره:1،)
وفي الدر المختار:
وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ. وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ أَوْ تَهَرُّبٍ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ قَتْلُهَا إذَا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ وَكُلَّمَا هَرَبَ رَدَّتْهُ بِالسِّحْرِ. وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ عَنْ الْأُوزْجَنْدِيِّ أَنَّهَا تَرْفَعُ الْأَمْرَ لِلْقَاضِي، فَإِنَّهُ حَلَفَ وَلَا بَيِّنَةَ لَهَا فَالْإِثْمُ عَلَيْهِ
(صريح الطلاق،ص: 251،ج:3،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَ) نِصَابُهَا (لِغَيْرِهَا مِنْ الْحُقُوقِ سَوَاءٌ كَانَ) الْحَقُّ (مَالًا أَوْ غَيْرَهُ كَنِكَاحٍ وَطَلَاقٍ(رَجُلَانِ) أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ
(كتاب الشهادت،ص:465،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لهاتميكنه. وهكذا اقتصر الشارحون. وذكر في البزازية وذكر الاوزجندي أنها ترفع الامر إلى القاضي، فإن لم يكن لها بينة تحلفه، فإن حلف فالاثم عليه ا ه. ولا فرق في البائن بين الواحدة والثلاث ا ه. وهل لها أن تقتله إذا أراد جماعا بعد علمها بالبينونة؟ فيه قولان، والفتوى أنه ليس لها أن تقتله، وعلى القول بقتله تقتله بالدواء، فإن قتلته بالسلاح وجب القصاص عليها. وليس لها أن تقتل نفسها وعليها أن تفدي نفسها بمال أو تهرب، وليس له أن يقتلها إذا حرمت عليه ولا يقدر أن يتخلص منها بسبب أنه كلما هرب ردته بالسحر
(الطلاق،ص:448،ج:3،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي الهداية:
وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزوج إلا أن تقيم المرأة البينة " لأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط ولأنه ينكر وقوع الطلاق وزوال الملك والمرأة تدعيه " فإن كان الشرط لا يعلم إلا من جهتها فالقول قولها في حق نفسها مثل أن يقول إن حضت فأنت طالق
(مدخل،ص:245،ج:1،ط: دار احياء التراث العربي)
وفي الفقه الاسلامي:
إثبات الطلاق:.. إذا ادعت المرأة أن زوجها طلقها، فالقول قول الزوج بيمينه؛ لأن الأصل بقاء النكاح وعدم الطلاق، إلا أن يكون لها بما ادعته بينة.
(اثبات الطلاق،ص:6985،ج:9،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔