سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-66 Fatwa no: 1447-66

پانی کی خریدوفروخت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میں ایک کمپنی شروع کرنا چاہتا ہوں ،جس میں پانی بوتلو میں پیک کرکے فروخت ہوتا ہے،لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ پانی کا بیچنا جائز نہیں،اس لئے کہ یہ سب لوگوں کے درمیان مشترک ہوتا ہے ،تو کیا میرا یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں آپ کیلئے پانی فروخت کرنا شرعا جائز ہے،کیونکہ جب آپ نے پانی اپنے کسی برتن یا بوتل وغیرہ میں محفوظ کرلیا،تو آپ اس کے مالک ہوگئےاورجہاں تک بعض لوگوں کی بات ہے تو وہ اس صورت میں ہے کہ جب پانی کسی کنویں ،نہر ،سمندر،یا کسی گزرگاہ میں بہتا ہو،تو اس کومحفوظ کئے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں ۔
كما فى الفتاوى الهندية:
لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.
(الفصل السابع في بيع الماء والجمد،ج3،ص121،ط:دارالفكر)
وفى الفقه الإسلامي:
أن يكون مملوكاً في نفسه: أي محرزاً وهو ما دخل تحت حيازة مالك خاص. فلا ينعقد بيع ما ليس بمملوك لأحد من الناس مثل بيع الكلأ ولو في أرض مملوكة، والماء غير المحرز، والحطب، والحشيش، والصيود التي في البراري، وتراب الصحراء ومعادنها، وأشعة الشمس والهواء، ولقطات البحر وحيوانات البر في البراري.
(كتاب البيوع،ج5،ص3321،ط:دارالفكر)
وفى المحيط البرهاني:
قال عليه الصلاة والسلام: «الناس شركاء في ثلاث في الماء والكلأ والنار»والمراد من الماء المذكور في الحديث الماء الذي في الآبار والأنهار؛ لأن هذا الماء وجد بإيجاد الله تعالى في مكانه، فبقي على الإباحة على أصل الخلقة حتى يؤخذ في الجرار، فإذا أخذه وجعله في جرة، أو ما أشبهها من الأوعية، فقد أحرزه فصار أحق به، فيجوز بيعه وتصرفه فيه كالصيد الذي يأخذه.
(نوع آخر في بيع الماء والجمد،ج9،ص349،ط:إدارة القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب