سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-659 Fatwa no: 1448-659

عدالتی خلع کے بعد شوہر کا طلاق دینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے شوہر سے عدالتی خلع لی تھی خلع لینے کے بعد سائل نے دار الافتاء سے فتوی لیا اور فتوی میں بتایا گیا کہ مذکورہ خلع درست واقع ہو ئی ہے ،کیونکہ جن اسباب کی بناء پر خلع لی گئی ہے ان اسباب کے ہوتے ہوئے عدالتی خلع درست ہوتی ہے اب ایک سال کے بعد شوہر طلاق دینے پر راضی ہو گیا ہے تو اگر شوہر اپنی مرضی سے طلاق دیدے ، تو کیاعور ت کی عدت اب سے شمار ہو گی یا اس کی عدت پہلے گزر چکی ہے دوبارہ عدت گزارنے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟
جواب :

اگرفسخ نكاح بر بنائے خلع  كی  بنیاد پر دعویٰ كيا گيا ہو اور فسخ نکاح     کی ساری وجوہات بھی موجود ہو ں تو یہ  فسخ نکاح  بر بنائے خلع عدالت کی  طرف سے ایک طلاق بائن شمار ہوتی ہے اور ہمارے فتو ی میں  اسی بناء پر عدالتی خلع  کے معتبر  ہونے کا فتوی دیا گیا ہے اس لیے بصورت مسئولہ اس عورت  کی عدت عدالتی خلع کے بعد شمار ہو گی، نیز سال کے بعد شوہر کا طلاق دینا بے فائدہ ہوگا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا اور شرعی اعتبار سے  اس طلاق کے بعد عورت پر کوئی عدت نہیں۔
كما في القرآن المجيد:
{فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُ وفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارً لِّتَعْتَدُوا}
(البقرة،پاره:2،آية:231)
وفي در المحتار:
( قوله : إلا إذا خافا ) استثناء منقطع ؛ لأن التفريق حينئذ مندوب بقرينة قوله فلا بأس لكن سيأتي أول الطلاق أنه يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة ويجب لو فات الإمساك بالمعروف فالظاهر أنه استعمل لا بأس عنا للوجوب اقتداء بقوله تعالى { فإن خفتم أن لا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به } فإن نفي البأس في معنى نفي الجناح فافهم .
(كتاب الطلاق،ص:328،ج:9،ط:دار الفكر)
وفيه ايضا:
قوله : وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة ، فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة.
(العنين،ص:317،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي البحرالرائق:
قوله ( لا البائن ) أي البائن لا يلحق البائن والمراد بالبائن الذي لا يلحق البائن الكناية المفيدة للبينونة بكل لفظ كان لأنه هو الذي ليس ظاهرا في الإنشاء في الطلاق.
(كنايات في الطلاق،ص:332،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي حيلة الناجزه:
قاضی کی تفریق بین الزوجین …..وہ حقوق جنہيں بزور عدالت  شوہر سے وصول کیا جا سکتا ہے اگر شوہر ان کی ادائيگی سے عاجز ہو  تو اس پر قانوناً واجب ہو جا تا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے …..(1)مجنون(2)متعنب (نان نفقہ نہ دینااوروظائف زوجيت) (3) نامرد(4)مفقودالخبر(5) غائب غیر مفقود الخبر۔
(قاضی کی تفریق بین الزوجین،ص:266،ج:1،ط: دار الأشاعت)
وفيه أيضا:
متعنت: اس شخص کو کہتے ہیں جو باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق …وغیرہ ادا نہ کرے…. اس کا حکم   زوجہ متعنت کو تفریق کا حق حاصل ہے
وهذاالحكم عند المالكية لا يختص بخشيةالزناوافلاس الزوجة لكن لم ناخذ علي الإطلاق بل اخذناه حيث وجدت الضرورةالمسوغة للخروج عن المذهب.
(حكم زوجه متعنت،ص:72،ج:1،ط:دار الإشاعت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026