سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-661 Fatwa no: 1448-661

عشاء کی نماز بے وضوء پڑھنےکے بعد وتر با وضوء پڑھنے سے اعادہ وتر کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے عشاء کی نماز پڑھ لی اور وتر اس نیت سے چھوڑ دیے کہ رات کے آخری حصہ میں پڑھوں گا اور پھر تہجد کے وقت وتر پڑھ لیے،لیکن صبح اس کو یاد آیا کہ عشاء کی نماز تو میں نے بغیر وضوء کے پڑھی تھی ،توکیا اب عشاء کی نماز لوٹانے کے ساتھ وتر بھی لوٹائے گا،جبکہ وتر اس نے رات کے آخری حصہ میں باوضوء پڑھے تھے؟
جواب :

 عشاء کی نماز اور وتر میں ترتیب واجب ہے ،مگر بھولنے کی سورت میں ترتیب ساقط ہو جاتی ہے،لہذا اگر کسی شخص نے بھول کر عشاء کی نماز  بغیر وضوء کے پڑھ لی پھر  باوضوء وتر ادا کیے تو اس شخص پر عشاء کی نماز  کا اعادہ واجب ہے وتر کا  دوبارہ پڑھنا واجب نہیں ۔
الدرالمختار:
(و) وقت (العشاء والوتر منه إلى الصبح، و) لكن (لا) يصح أن (يقدم عليها الوتر) إلا ناسيا (لوجوب الترتيب) لأنهما فرضان عند الإمام...(قوله لكن).... لو قدم الوتر عليها ناسيا أو تذكر أنه صلاها فقط على غير وضوء لا يعيده عنده،...(قوله: لأنهما فرضان عند الإمام) لكن العشاء قطعي والوتر عملي، وهذا تعليل للحكمين المذكورين في المتن:الأول كون ما بين غيبوبة الشفق والفجر وقتا لهما معا. الثاني لو صلاه قبلها، فإن ناسيا سقط الترتيب.
(المواقيت،۳۶۱/۱،دارالفکر)
 بدائع الصنائع:
أن من صلى العشاء على غير وضوء وهو لا يعلم ثم توضأ فأوتر ثم تذكر أعاد صلاة العشاء بالاتفاق ولا يعيد الوتر
(بيان وقته،۲۷۲/۱،دار الکتب العلمية)
البحرالرائق:
والوتر منه إلى الصبح ولا يقدم على العشاء للترتيب... قوله: (ولا يقدم على العشاء للترتيب)أي لا يقدم الوتر على العشاء لوجوب الترتيب بين العشاء والوتر... حتى لو قدم الوتر ناسيا فإنه يجوز.
(الصلاة،۴۲۸/۱،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026