سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-666 Fatwa no: 1448-666

عورت کے جنازے میں امامِ محلہ اور ولی کے حقِ امامت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ کسی عورت کے جنازہ میں امام محلہ اور ولی دونوں موجود ہوں تو کون جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار ہو گا ؟ حالانکہ مرد کے کے لیے تو امام حی اولی ہوتا ہے؛ اس لیے کہ وہ آدمی جو فوت ہو چکا ہے وہ اپنی زندگی میں اس امام کے پیچھے نمازیں پڑھنے پر راضی تھا ،جبکہ عورتیں اپنی نمازیں گھر میں ادا کرتی ہیں؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  اگر فوت شدہ عورت  کے ولی نے  محلہ کے امام کو نماز جنازہ  پڑھانے کی اجازت  دی ہو تومحلے کا امام عورت  کی  نماز جنازہ  پڑھا سکتا ہے،تاہم  اجازت کے بغیر نمازجنازہ پڑھانے کا حقدار عورت کا ولی   (اگر وہ  نماز جنازہ پڑھانا چاہے)ہے۔ 
مصنف عبد الرزاق:
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «أَوْلَى النَّاسِ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَرْأَةِ الْأَبُ، ثُمَّ الزَّوْجُ، ثُمَّ الِابْنُ، ثُمَّ الْأَخُ»  - عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «الْوَلِيُّ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهَا»
(من أحق بالصلاة علي الميت،۴۷۲/۳، دارالفكر)
الفتاوی التاتارخانية:
ولا يتقدم امام الحي إلا بإذن الاب،وعند عدم إمام الحي أبو الميت أولي من سائر العصبات….وقال أبو يوسف۔۔۔ ولي الميت أولي بالصلاة علي الميت علي كل حال.
( من هو اولي بالصلوة علي الجنازة،۵۹/۳، اعزازية)
 الفقه الاسلامي:
ثانياً ـ من الأولى بالصلاة على الجنازة؟
الرأي الأول ـ للحنفية: السلطان إن حضر أو نائبه أحق بالصلاة على الميت بسبب السلطنة، ولأن في التقدم عليه ازدراء به، فإن لم يحضر فالقاضي؛ لأنه صاحب ولاية، فإن لم يحضر فيقدم إمام الحي؛ لأنه رضيه في حياته، فكان أولى بالصلاة عليه في مماته، ثم يقدم الولي الذكر المكلف بترتيب عصوبة أو أولياء النكاح إلا الأب فيقدم على الابن، ويقدم الأقرب فالأقرب كترتيبهم في ولاية الزواج. ولمن له حق التقدم أن يأذن لغيره. ومن له ولاية التقدم أحق ممن أوصى له الميت بالصلاة عليه على المفتى به؛ لأن الوصية باطلة.
(انواع الصلوة،۴۲۶/۲، رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026