نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں اگر فوت شدہ عورت کے ولی نے محلہ کے امام کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی ہو تومحلے کا امام عورت کی نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے،تاہم اجازت کے بغیر نمازجنازہ پڑھانے کا حقدار عورت کا ولی (اگر وہ نماز جنازہ پڑھانا چاہے)ہے۔
مصنف عبد الرزاق:
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «أَوْلَى النَّاسِ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَرْأَةِ الْأَبُ، ثُمَّ الزَّوْجُ، ثُمَّ الِابْنُ، ثُمَّ الْأَخُ» - عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «الْوَلِيُّ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهَا»
(من أحق بالصلاة علي الميت،۴۷۲/۳، دارالفكر)
الفتاوی التاتارخانية:
ولا يتقدم امام الحي إلا بإذن الاب،وعند عدم إمام الحي أبو الميت أولي من سائر العصبات….وقال أبو يوسف۔۔۔ ولي الميت أولي بالصلاة علي الميت علي كل حال.
( من هو اولي بالصلوة علي الجنازة،۵۹/۳، اعزازية)
الفقه الاسلامي:
ثانياً ـ من الأولى بالصلاة على الجنازة؟
الرأي الأول ـ للحنفية: السلطان إن حضر أو نائبه أحق بالصلاة على الميت بسبب السلطنة، ولأن في التقدم عليه ازدراء به، فإن لم يحضر فالقاضي؛ لأنه صاحب ولاية، فإن لم يحضر فيقدم إمام الحي؛ لأنه رضيه في حياته، فكان أولى بالصلاة عليه في مماته، ثم يقدم الولي الذكر المكلف بترتيب عصوبة أو أولياء النكاح إلا الأب فيقدم على الابن، ويقدم الأقرب فالأقرب كترتيبهم في ولاية الزواج. ولمن له حق التقدم أن يأذن لغيره. ومن له ولاية التقدم أحق ممن أوصى له الميت بالصلاة عليه على المفتى به؛ لأن الوصية باطلة.
(انواع الصلوة،۴۲۶/۲، رشيديه)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔