سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-667 Fatwa no: 1448-667

تحصیلِ علم کے لیے عورت کا بغیر محرم سفر کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ علم تو ہر مسلم مرد اور عورت پر فرض ہےتو جس طرح مرد علم کےلئے سفر کرسکتا ہے کیا عورت بھی اس طرح سفر کرسکتی ہے۔آج کل بنات کے مدارس کا رواج پڑ چکا ہے اور لڑکیاں دور دور تک سفر کرتی ہیں اور پھر محرم کے بغیر مدرسے میں اقامت کرتی ہیں اس حوالہ سے راہنمائی درکار ہے؟
جواب :

محرم کا   پورے سفر میں عورت کے ساتھ  ہونا ضروری  ہے اور اگر محرم  سفر کے دوران  واپس آجائے  تو عورت کے لیے بغیر محرم کے  سفرکرنے اور اس جگہ ٹھہرنے میں اگر فتنہ  کا اندیشہ ہوتو  بغیر محرم کے رہنادرست  نہیں   ،لہذا           علماء نے فتنہ کا خوف غالب   نہ ہونے کی صورت میں   عورتوں کو   مدرسے  میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش دی ہے ،لیکن  موجودہ دور میں  بہترین طریقہ یہ ہے  کہ ہر جگہ ہر بستی میں مقامی طور پر ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ عورتیں اور لڑکیاں پردہ کے  پورے اہتمام  کےساتھ  آمدورفت کریں اور شام تك اپنے گهر واپس پہنچ جائے۔
كمافي تبيين الحقائق: 
وَلَنَا مَا رَوَيْنَا وَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَحُجَّ إلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا» ذَكَرَهُ فِي الْإِمَامِ وَعَزَاهُ إلَى الدَّارَقُطْنِيّ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَلَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ إلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ، إنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَإِنِّي اكْتَتَبْت فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِك» رَوَاهُ مُسْلِمٌ
(كتاب الحج،ص:5،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا تسافر المرأة فوق ثلاثة أيام ولياليها إلا ومعها زوجها أو ذو رحم محرم منها" وقوله عليه الصلاة والسلام: "ألا لا يخلون رجل بامرأة ليس منها بسبيل فإن ثالثهما الشيطان" والمراد إذا لم يكن محرما،
(في الوطئ واللمس،ص:371،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي موسوعة الفقهية:
سَفَرُ الْمَرْأَةِ بِدُونِ مَحْرَمٍ:أسَفَرُ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ الْفَرْضِ بِدُونِ مَحْرَمٍ - ذَهَبَ الْفُقَهَاءُ إِلَى أَنَّهُ لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ لِغَيْرِ الْفَرْضِ كَحَجِّ التَّطَوُّعِ وَالزِّيَارَةِ وَالتِّجَارَةِ وَالسِّياحَةِ وَطَلَبِ الْعِلْمِ، وَنَحْوِ هَذَا مِنَ الأْسْفَارِ الَّتِي لَيْسَتْ وَاجِبَةً إِلاَّ مَعَ زَوْجٍ أَوْ مَحْرَمٍ.قَال النَّوَوِيُّ: اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَخْرُجَ فِي غَيْرِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، إِلاَّ الْهِجْرَةُ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ، فَاتَّفَقُوا عَلَى أَنَّ عَلَيْهَا أَنْ تُهَاجِرَ مِنْهَا إِلَى دَارِ الإْسْلاَمِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا مَحْرَمٌ، وَالْفَرَقُ بَيْنَهُمَا أَنَّ إِقَامَتَهَا فِي دَارِ الْكُفْرِ حَرَامٌ إِذَا لَمْ تَسْتَطِعْ إِظْهَارَ الدِّينِ وَتَخْشَى عَلَى دِينِهَا وَنَفْسِهَا.
(سفرالمراة،ص:206،ج:36،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
ولو سافر بها، ثم طلقها بائنا أو ثلاثا أو مات عنها وبينها وبين مصرها ومقصدها أقل من السفر إن شاءت مضت، وإن شاءت رجعت سواء كانت في المصر أو غيره معها محرم أو لم يكن إلا أن الرجوع أولى ليكون الاعتداد في منزل الزوج، وإن كان أحد الطرفين سفرا والآخر دونه اختارت ما دونه، وإن كان كل واحد منهما سفرا، فإن كانت في المفازة مضت إن شاءت أو رجعت بمحرم أو غير محرم ولكن الرجوع أولى، فإن كانت في مصر لم تخرج بغير محرم، وإن كان معها محرم لم تخرج عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقالا: تخرج وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أولا وقوله الآخر أظهر، وإن طلقها رجعيا تبعت زوجها سار أو مضى ولم تفارقه كذا في الكافي
(العشر في الحداد،ص:535،ج:1،ط:دار الفكر)
وفي الفتاوی دارالعلوم ديوبند:
لڑکیوں کے لیے مدارس  میں تعلیم حاصل کرنا مناسب نہیں:عورتوں کے لیے تعلیم حاصل  کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہو کہ ہر جگہ ہر بستی میں مقامی طور پر ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ عورتیں اور لڑکیاں پردہ کے  پورے اہتمام  کےساتھ  آمدورفت کریں . . . .اور شام تك اپنے گهر واپس پہنچ جائے۔
(پردہ اور ستر کے احکام،ص:219،ج:16،ط:دارالعلوم دیوبند)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026