نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں اگر بڑے بھائی کا حلال کاروبار بھی تھا تو بڑے بھائی نے جوچھوٹے بھائی کے کام کے لیے پیسے بھیجے تھےان پیسوں کے حرام ہونے کا یقینی طور پر علم بھی نہ ہو تو وہ پیسے حلال شمار ہو نگے اور چھوٹے بھائی کا اس مال کو ریسٹوینٹ میں لگانا اوراس کے مرنے کے بعد اولاد کا اپنے باپ کے لگائے ہوئے مال کے مطابق اپنا حصہ لینا درست ہو گا۔
كما في بذل المجهود في سن ابي داؤد:
صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالاً بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك، وإلَّا ففي جميع الصور يجب عليه أن يتصدق بمثل تلك الأموال على الفقراء، فهذا القول منهم يخالف الحديث المذكور، فإن الحديث دال على حرمة التصدق بالمال الخبيث، وقد نص الله تعالى في كتابه: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}
(باب فرض الوضوء،ص:359،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
باب الربا وجه مناسبته للمرابحة أن في كل منهما زيادة إلا أن تلك حلال وهذه حرام والحل هو الأصل في الأشياء فقدم ما يتعلق بتلك الزيادة على ما يتعلق بهذه
(باب الربا ،ص:135،ج:6،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
كسب المغنية كالمغصوب لم يحل لأحد أخذه قالوا وعلى هذا لو مات رجل وكسبه من ثمن الباذق والظلم أو أخذ الرشوة تعود الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو الأولى لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد
(البيوع،ص:229،ج:8،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔