سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-67 Fatwa no: 1447-67

پچھلے سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک خاتون کے پچھلے چھ سالوں کی زکوۃ رہتی ہے اس وقت مسئلہ معلوم نہیں تھا اب معلوم ہوا ہے کہ نصاب کے بقدر مال تھا ، لیکن اب وہ صاحب نصاب نہیں ہے اس نے سونا چاندی بیچ دیا ہے اب معاشی حالات ایسے ہیں کہ وہ پچھلے سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کرسکتی اس کیلئے پچھلے سالوں کی زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

واضح رہےکہ زکوۃ جب انسان کے ذمہ ایک مرتبہ واجب ہوجاتی ہے تو ادا کرنے کیساتھ یا نصاب ھلاک ہونے سے انسان کا ذمہ فارغ  ہوجاتا ہے ، لیکن  صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نے نہ تو زکوۃ ادا کی ہے اور نہ ہی اس کا نصاب ہلاک ہوا ہے اس لئے اس پر پچھلے سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے ۔
كما فى الفتاوى الهندية:
وإن هلك المال بعد وجوب الزكاة سقطت الزكاة، وفي هلاك البعض يسقط بقدره هكذا في الهداية. ولو استهلك النصاب لا يسقط هكذا في السراجية.
(مسائل شتى فى الزكوة،ج1،ص399،ط:مكتبة رشيدية)
وفى الفقه الإسلامي وأدلته :
للفقهاء رأيان في سقوط الزكاة بعد وجوبها وهلاك المال:
1 - فقال الحنفية (3): إن هلك المال بعد وجوب الزكاة، سقطت الزكاة؛ كما أنه يسقط العشر وخراج المقاسمة؛ لأن الواجب جزء من النصاب، وتحقيقاً للتيسير، فإن الزكاة وجبت بقدرة مُيسِّرة أي بقاء اليسر إلى وقت أداء الزكاة، فيسقط الواجب بهلاك محله، سواء تمكن من الأداء أم لا؛ لأن الشرع علق الوجوب بقدرة ميسرة، والمعلق بقدرة ميسرة لا يبقى بدونها، والقدرة الميسرة هنا هي وصف النماء، لا النصاب.ولا تسقط الزكاة بالاستهلاك، وإن انتفت القدرة الميسرة، لوجود التعدي.
(المبحث الرابع بعد وجوب الزكوة،ج2،ص666،ط:مكتبة رشيدية)
وفى التاتارخانية:
قال أصحابنا : إذا هلك مال الزكوة بعد حولان الحول من غير تعدى منه بالإستهلاك سقطت عنه الزكوة سواء هلك بعد التمكن من الاداء ، أو قبل التمكن منه.
(الفصل الحادي عشر فى الأسباب المسقطة،ج3،ص237،ط:مكتبةاعزازية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 18 May 2026

واللہ اعلم بالصواب