سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-670 Fatwa no: 1448-670

غیر محرم کامحرم كے بال كاٹنے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر محرم شخص محرم کے افعال حج یا عمرہ پورے ہونے سے پہلے سر کے بال کاٹ دے تو اس کی وجہ سے غیر محرم پر کچھ لازم ہوتا ہے یانہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ حج یا عمرہ   کے افعال پورے کرنے سے پہلے اگر محرم نے  غیر محرم سےیا محرم سے  سر کے بال کٹوائےیا انہوں نے کاٹے یا  خود محرم نے کسی غیر محرم یا محرم کے بال کاٹے تو ان تمام صورتوں میں بال کاٹنے والے پر  صدقہ(نصف صاع گندم) دینا لازم ہوگا، ،لہذا صورت مسئولہ میں  غیر محرم شخص  پر محرم کے بال کاٹنے کی وجہ  سے صدقہ لازم ہوگا،نیز یاد رہے کہ صدقہ سے مراد ایک صدقہ فطر ہے جو کہیں بھی  کسی  بھی فقیر کو دیا جا سکتا ہے،جبکہ محرم پر دم لازم آئے گا۔
الدر المختارمع رد المحتار:
(أو حلق رأس ) محرم أو حلال ( غيره )۔۔۔۔( تصدق بنصف صاع من بر )
( قوله أو حلق إلخ ) اعلم أن الحالق والمحلوق إما أن يكونا محرمين أو حلالين ، أو الحالق محرما والمحلوق حلالا أو بالعكس ؛ ففي كل على الحالق صدقة إلا أن يكونا حلالين ، وعلى المحلوق دم إلا أن يكون حلالا نهاية ، لكن في حلق المحرم رأس حلال يتصدق الحالق بما شاء ، وفي غيره الصدقة نصف صاع كما في الفتح والبحر .وبه يعلم ما في قوله أو حلال ، ووقع في العناية : فيما إذا كان الحالق حلالا والمحلوق محرما أنه لا شيء على الحالق اتفاقا فليتأمل.
( باب الجنايات،۴۳۵/۸،دار الفكر)
الفتاوی الهندية:
ولو حلق الحلال رأس محرم بأمره أو بغير أمره كانت الكفارة على المحرم ولا يرجع بذلك على الحالق كذا في فتاوى قاضي خان وعلى الحالق الحلال صدقة كذا في غاية السروجي شرح الهداية.
(فی الحلق الشعر،۲۴۳/۱، دار الفکر)
الفتح القدير:
فإذا حلق الحلال رأس محرم فقد باشر قطع ما استحق الأمن بالأحرام إذ لا فرق لا تحلقوا حتى تحلوا وبين لا تعضدوا شجر الحرم فإذا استحق الشجر نفسه الأمن من هذه 
العبارة استحق الشعر أيضا الأمن فيجب بتفويته الكفارة بالصدقة.
(باب الجنايات،۳۵/۳، دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026