سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-671 Fatwa no: 1448-671

فجر کی پہلی رکعت میں مختصر اور دوسری رکعت میں لمبی قراءت کرنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی فجر کی نماز پڑھ رہا تھا اس نے پہلی رکعت میں ایک مختصر سے رکوع کی قراءت کی ،جبکہ دوسری رکعت میں تقریباً دورکوع تلاوت کیے کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ نوافل  کے علاوہ دیگر نمازوں میں دوسری رکعت میں پہلی رکعت کے بنسبت کم قراءت کرنا سنت ہےاور جبکہ پہلی رکعت کے مقابلہ میں دوسری رکعت میں قراءت کی مقدار تین آیات یا اس سے زیادہ لمبا کرنا مکروہ تنزیہی ہے،لہذا اگر کسی شخص نے پہلی رکعت کے مقابلے میں دوسری رکعت میں تین آیات یا اس سے زیادہ لمبی قراءت کی تو اس شخص کی نماز مکروہ تنزیہی کے ساتھ ادا ہو  گی۔
الهندية:
لا خلاف أن إطالة الركعة الثانية على الأولى مكروهة إن كانت بثلاث آيات أو أكثر وإن كانت بأقل من ذلك لا يكره.
(الرابع في القراءة،۷۸/۱،دارالفکر)
الدرالمختار:
(وتطال أولى الفجر على ثانيتها).... (فقط) وقال محمد: ولي الكل حتى التراويح؛ قيل وعليه الفتوى. (وإطالة الثانية على الأولى يكره) تنزيها... واستثنى في البحر ما وردت به السنة واستظهر في النفل عدم الكراهة مطلقا
(في القراءة،۵۴۱/۱،دارالفکر)
البحر الرائق:
تستوي الركعتان في القراءة... بالاتفاق.. لان إطالة الثانية على الاولى تكره إجماعا، وإنما يكره التفاوت بثلاث آيات، فإن كان آية أو آيتين لا يكره
(صفة الصلاة،۵۹۷/۱،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026