سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-675 Fatwa no: 1448-675

قرآن مجید رکھنے والی ٹوٹی ہوئی تپائی کو کباڑ میں فروخت کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن مجید رکھنے والی پلاسٹک کی تپائی ٹوٹ جائے تو کیا اسے کباڑ میں فروخت کر سکتے ہیں؟ اور اگر نہیں کر سکتے تو اس صورت میں ان کا کیا جائے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر تپائی پر قرآن کی آیت وغیرہ لکھی ہوئی نہ ہو تو اس کو کباڑ میں فروخت کرنا جائز ہے  ، اس لیے  کہ کباڑ  والے لوگ اس کو دوبارہ ری سائیکل(یعنی وہ چیزدوبارہ استعمال کے قابل بن جاتی ہے) کروانے کے لیے  فیکٹری میں منتقل کرتے ہیں اور اگر اس پر قرآن کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو تو اس کو مٹا   ئے بغیر بیچنا  درست نہیں، تاہم فروخت  کرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ وہ رقم  مسجد کے فنڈمیں شامل کی جائے ۔
كما في الفتاویالهندية:
ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز…التفسير الذي فيه آيات مكتوبة فوق كتب القراء حانوت أو تابوت فيه كتب فالأدب أن لا يضع الثياب فوقه ويجوز رمي براية القلم الجديد ولا ترمى براية المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم.
(آداب المصحف،ص:322،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختارمع ردالمحتار:
وجاز بيع المصحف المخرق وشراء آخر بثمنه.
(مطلب فی وقف المرتد والكافر،ص:209،ج:17،ط:دارالفكر)
وفي الموسوعة الفقهية:
هذا بيان حكم ما ظهر فيه التعظيم ، أو ظهرت فيه الإهانة. أما ما لم يظهر فيه أي من المعنيين ، وذلك في مثل الصورة المطبوعة في كتاب ، أو الموضوعة في درج أو خزانة أو على منضدة ، من غير نصب.
(استعمال واقتناءالصور،ص:120،ج:12،ط؛دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026