نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں قربانی کے جانور کو وزن کر کے خریدنا درست ہے ؛کیونکہ آج کل عرف یہی ہے اور اس میں نزاع بھی نہیں ، نیز جانور کی قربانی کے لیے پاؤں میں نقص کی حد یہ ہے کہ جانور کے جس پاؤں میں لنگڑا پن ہوتو اگر وہ جانور چلتے ہوئے اس پاؤں کے ذریعے زمین پر سہارا نہ لے رہا ہو تو پھراس کی قربانی درست نہیں ہے ،لیکن اگر چلتے ہوئے اسی پاؤں کو زمین پر ٹیک کر سہارا لیتا ہو تو پھراس کی قربانی درست ہے۔
كما في الدر المختار مع رد المحتار:
(وَالْعَرْجَاءِ الَّتِي لَا تَمْشِي إلَى الْمَنْسَكِ) أَيْ الْمَذْبَحِ، وَالْمَرِيضَةِ الْبَيِّنِ مَرَضُهَا ... (قَوْلُهُ وَالْعَرْجَاءِ) أَيْ الَّتِي لَا يُمْكِنُهَا الْمَشْيُ بِرِجْلِهَا الْعَرْجَاءِ إنَّمَا تَمْشِي بِثَلَاثِ قَوَائِمَ، حَتَّى لَوْ كَانَتْ تَضَعُ الرَّابِعَةَ عَلَى الْأَرْضِ وَتَسْتَعِينُ بِهَا جَازَ عِنَايَةٌ
(الاضحية،ص:323،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوی التاتارخانية:
اذا كانت تمشي بثلاث قوائم، وتجا في الرابع عن الارض لا يجوز،واذا كانت تضع الرابع علی الارض تستعين بها،الا انه تتمايل مع ذلك وتضعه وضعا خفيفا يجوز؛واما اذا كانت ترفع،اوتحمل المنكسر لا يجوز.
(الاضحية،ص:426،ج:5،ط:اعزازية)
وفي الفتاوی الهندية:
واختلف أصحابنا بين القليل والكثير فعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أربع روايات، وروى محمد - رحمه الله تعالى - عنه في الأصل وفي الجامع أنه إذا كان ذهب الثلث أو أقل جاز، وإن كان أكثر لا يجوز، والصحيح أن الثلث وما دونه قليل وما زاد عليه كثير، وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان.
(الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ص:298،ج:5،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
ولو اشترى عشرة عشر أغنام بينهم فضحى كل واحد واحدة جاز، ويقسم اللحم بينهم بالوزن، وإن اقتسموا مجازفة يجوز
(المتفرقات،ص:306،ج:5،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔