سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-677 Fatwa no: 1448-677

قربانی کے نصاب میں دکان کے سامان ،اوزار کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ كیا قربانی کے نصاب میں مال تجارت میں سے کسی دکان کے اوزار،فرنیچر وغیرہ (جو بیچنے لے لیے نہ ہوں ) شامل ہوں گےیا مال تجارت سے مراد صرف وہ مال ہے جو فروخت کرنے کے ارادہ سے خریدا گیا ہے؟
جواب :

بصورت مسئولہ  اگر کسی کے پاس دوکان کے اوزاراور فرنیچر وغیرہ  ا ستعمال کے لیے ہوں تو قربانی کے نصاب میں ان کو شامل نہیں کیاجائے گا اور اگر   استعمال   کے لیے نہ ہو(یعنی زائد از ضرورت ہو)  ، تو اس كو قربانی كے نصاب میں شامل كيا جائے گا؛کیونکہ ضرورت سے زائد اشیاءمثلاً برتن ،کپڑے،اسی طرح اوزاراور فرنیچر وغیرہ کو اگرچہ زکاۃ کے نصاب میں  شامل نہیں کیا جاتا  ،لیکن ان کو صدقہ فطر اور قربانی کے نصاب میں شامل کیا جاتا ہے ۔
کمافي الدرالمختار:
(وَلَا فِي ثِيَابِ الْبَدَنِ)وَكَذَلِكَ آلَاتُ الْمُحْتَرِفِينَ إلَّا مَا يَبْقَى أَثَرُ عَيْنِهِ كَالْعُصْفُرِ لِدَبْغِ الْجِلْدِ فَفِيهِ الزَّكَاةُ، بِخِلَافِ مَا لَا يَبْقَى كَصَابُونٍ يُسَاوِي نُصُبًا وَإِنْ حَالَ الْحَوْلُ.
(كتاب الزكاة ۔ص:264،ج:2،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
قوله ( فارغ عن حاجته ) قال في البدائع قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره لا بأس أن يعطى من الزكاة من له مسكين وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة لما روي عن الحسن البصري قال كانوا يعني الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم وهذا لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها ۔۔۔۔۔وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لا تكفيه وعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة عند محمد وعند أبي يوسف لا يحل.
( باب المصرف،ص:347 ،ج:2،ط:سعيد)
وفيه ايضا:
(ذِي نِصَابٍ فَاضِلٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) كَدَيْنِهِ وَحَوَائِجِ عِيَالِهِ (وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ) كَمَا مَرَّ (وَبِهِ) 

أَيْ بِهَذَا النِّصَابِ (تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ) كَمَا مَرَّ، وَتَجِبُ الْأُضْحِيَّةُ وَنَفَقَةُ الْمَحَارِمِ عَلَى الرَّاجِحِ
(صدقة الفطر،ص:357،ج:2،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026