سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-678 Fatwa no: 1448-678

ادھار فروخت کیے گئے مکان کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے پندرہ لاکھ پہ گھر خریدا پھر اس کو فروخت کیا ایک سال بعد 17 لاکھ پر قرضا ً(یعنی ایک سال میں اس کو 17 لاکھ روپے حوالہ کریگا)تو اس میں زکوۃ کا کیا حکم ہیں ؟
جواب :

ایسی رقم جو کاروباری لین دین کی وجہ  سے  واجب الوصول (قرض)ہو  اور اس کے ملنے کی امید بھی ہو تو  جب تک وہ  وصول نہ ہو جائے  اس کی زکوۃ  دینا لازم نہیں،البتہ وصول ہونے کے بعد  زکوۃ دینا لازم  ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سترہ لاکھ کی جو رقم ادھار کی صورت میں قرض ہے
اگر وہ رقم سال کے دوران تھوڑی تھوڑی ملتی ہے، اور وہ رقم دیگر مال (سونا، چاندی، نقدی) کے ساتھ ملا کر نصاب  مکمل کرتی ہو، تو اس کے ساتھ ملا کر  زکوة دی جائے گی اور اگر سال کے بعد مکمل ملنی ہے تو سال کے بعد زکوۃ ادا کی جائےگی اور اگر يہ قرض چند سالوں کے بعد وصول ہو تو گذشتہ سالوں کی بھی  زکوۃ ادا کی جائے گی۔
کما في الدرا المختار:
(وَ) اعْلَمْ أَنَّ الدُّيُونَ عِنْدَ الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ: قَوِيٌّ، وَمُتَوَسِّطٌ، وَضَعِيفٌ؛ (فَتَجِبُ) زَكَاتُهَا إذَا تَمَّ نِصَابًا وَحَالَ الْحَوْلُ، لَكِنْ لَا فَوْرًا بَلْ (عِنْدَ قَبْضِ…. الْقَوِيِّ كَقَرْضٍ
(باب زكاةالمال،ص:305،ج:2،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ أَوْ) عَلَى (مُعْسِرٍ أَوْ مُفَلَّسٍ)…(فَوَصَلَ إلَى مِلْكِهِ لَزِمَ زَكَاةُ مَا مَضَى)
(كتاب الزكاة،ص:266،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي البناية:
(وَلَوْ كَانَ الدَّيْنُ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ) أَيْ غَنِيٍّ مُقْتَدِرٍ (أَوْ مُعْسِرٍ تَجِبُ الزَّكَاةُ لِإِمْكَانِ الْوُصُولِ إلَيْهِ ابْتِدَاءً) أَيْ فِي الْمَلِيءِ …. (وَكَذَا لَوْ كَانَ عَلَى جَاحِدٍ وَعَلَيْهِ بَيِّنَةٌ أَوْ عَلِمَ الْقَاضِي بِهِ لِمَا قُلْنَا) يَعْنِي مِنْ إمْكَانِ الْوُصُولِ إلَيْهِ…..وَجَبَتْ الزَّكَاةُ فِيمَا مَضَى
(كتاب الزكاة،ص:167،ج:2،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026