نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںایسی رقم جو کاروباری لین دین کی وجہ سے واجب الوصول (قرض)ہو اور اس کے ملنے کی امید بھی ہو تو جب تک وہ وصول نہ ہو جائے اس کی زکوۃ دینا لازم نہیں،البتہ وصول ہونے کے بعد زکوۃ دینا لازم ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سترہ لاکھ کی جو رقم ادھار کی صورت میں قرض ہے
اگر وہ رقم سال کے دوران تھوڑی تھوڑی ملتی ہے، اور وہ رقم دیگر مال (سونا، چاندی، نقدی) کے ساتھ ملا کر نصاب مکمل کرتی ہو، تو اس کے ساتھ ملا کر زکوة دی جائے گی اور اگر سال کے بعد مکمل ملنی ہے تو سال کے بعد زکوۃ ادا کی جائےگی اور اگر يہ قرض چند سالوں کے بعد وصول ہو تو گذشتہ سالوں کی بھی زکوۃ ادا کی جائے گی۔
کما في الدرا المختار:
(وَ) اعْلَمْ أَنَّ الدُّيُونَ عِنْدَ الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ: قَوِيٌّ، وَمُتَوَسِّطٌ، وَضَعِيفٌ؛ (فَتَجِبُ) زَكَاتُهَا إذَا تَمَّ نِصَابًا وَحَالَ الْحَوْلُ، لَكِنْ لَا فَوْرًا بَلْ (عِنْدَ قَبْضِ…. الْقَوِيِّ كَقَرْضٍ
(باب زكاةالمال،ص:305،ج:2،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ أَوْ) عَلَى (مُعْسِرٍ أَوْ مُفَلَّسٍ)…(فَوَصَلَ إلَى مِلْكِهِ لَزِمَ زَكَاةُ مَا مَضَى)
(كتاب الزكاة،ص:266،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي البناية:
(وَلَوْ كَانَ الدَّيْنُ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ) أَيْ غَنِيٍّ مُقْتَدِرٍ (أَوْ مُعْسِرٍ تَجِبُ الزَّكَاةُ لِإِمْكَانِ الْوُصُولِ إلَيْهِ ابْتِدَاءً) أَيْ فِي الْمَلِيءِ …. (وَكَذَا لَوْ كَانَ عَلَى جَاحِدٍ وَعَلَيْهِ بَيِّنَةٌ أَوْ عَلِمَ الْقَاضِي بِهِ لِمَا قُلْنَا) يَعْنِي مِنْ إمْكَانِ الْوُصُولِ إلَيْهِ…..وَجَبَتْ الزَّكَاةُ فِيمَا مَضَى
(كتاب الزكاة،ص:167،ج:2،ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 25 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔