سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-68 Fatwa no: 1447-68

پرندوں کے شکار کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پرندوں کا شکار کرنا جائز ہے یا نہیں، پرندوں کے شکار کرنے سےکوئی آدمی گنہگار تو نہیں ہوگا،نیز کونسے پرندوں کا شکار جائز ہے اور کونسے پرندوں کا شکار جائز نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ شکار کرنا مباح ہے،برابر ہے کہ اس حیوان یا پرندےکا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہیں، صورت مسئولہ  میں پرندوں کا شکار کرنا مباح ہےاور اس میں کسی خاص پرندے کی کوئی تعیین نہیں، جن پرندوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کی جلد سے،بالوں سے نفع اٹھانے کےلیےیا ان کے شر سے بچنے کے لیے بھی شکار کیا جا سکتا ہے۔
وفي القدوري:
ويجوز اصطياد ما يؤكل لحمه من الحيوان وما لا يؤكل
(كتاب الصيد،ص:706،ط:البشري)
وفي حاشية الطحطاوي:
والإصطياد مباح فيما يحل أكله وما لا يحل،فما يحل أكله فصيده للأكل وما لا يحل أكله فصيده لغرض آخر،إما للإنتفاع بجلده أو شعره أو لدفع أذيته،انتهي
(كتاب الصيد، ج:10،ص:706،ط:رشيد)
وفي رد المحتار:
ثم إن كل نوع منها تارة يتخذه الانسان حرفة ومعاشا، وتارة يفعله وقت الحاجة في بعض الاحيان، وحيث كان الاصطياد نوعا منها دل على إباحة اتخذاه حرفة.
(كتاب الصيد،ص:706،ط:البشري)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 18 May 2026

واللہ اعلم بالصواب