نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شکار کرنا مباح ہے،برابر ہے کہ اس حیوان یا پرندےکا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہیں، صورت مسئولہ میں پرندوں کا شکار کرنا مباح ہےاور اس میں کسی خاص پرندے کی کوئی تعیین نہیں، جن پرندوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کی جلد سے،بالوں سے نفع اٹھانے کےلیےیا ان کے شر سے بچنے کے لیے بھی شکار کیا جا سکتا ہے۔
وفي القدوري:
ويجوز اصطياد ما يؤكل لحمه من الحيوان وما لا يؤكل
(كتاب الصيد،ص:706،ط:البشري)
وفي حاشية الطحطاوي:
والإصطياد مباح فيما يحل أكله وما لا يحل،فما يحل أكله فصيده للأكل وما لا يحل أكله فصيده لغرض آخر،إما للإنتفاع بجلده أو شعره أو لدفع أذيته،انتهي
(كتاب الصيد، ج:10،ص:706،ط:رشيد)
وفي رد المحتار:
ثم إن كل نوع منها تارة يتخذه الانسان حرفة ومعاشا، وتارة يفعله وقت الحاجة في بعض الاحيان، وحيث كان الاصطياد نوعا منها دل على إباحة اتخذاه حرفة.
(كتاب الصيد،ص:706،ط:البشري)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 18 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔