نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ قسم میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے جب کہ نما ز میں لقمہ دینے کو عرف میں کلام شمار نہیں کیا جاتا،لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی آدمی نے امام سے باتیں نہ کرنے کی قسم کھائی پھر تراویح کی نماز میں قراءت کی غلطی آنے پر اس آدمی نے امام کو لقمہ دے دیا ،تولقمہ دینے سے قسم توڑنے والا شمار نہیں ہو گا، البتہ کسی مسلمان سے کلام نہ کرنے کی قسم کھانا مناسب نہیں ہے ۔
الفتاوي التاتارخانية:
واذا حلف لا يكلم فلاناّ فالقتدي الحالف بلمحلوف عليه فسها المحلوف عليه فسبح له الحالف أو فتح عليه بالقراءة: لم يحنث.
(الحلف علي الاقوال،۶۳/۱۰، اعزازيه)
الفتاوي الهنديه:
هكذا في فتاوى قاضي خان إذا حلف لا يكلم فلانا فاقتدى الحالف بالمحلوف عليه فسها عليه فسبح له الحالف لم يحنث.
(الباب السادس اليمين في الكلام،۹۷/۲، دارالفكر)
الدرا لمختار:
( حلف لا يتكلم فقرأ القرآن أو سبع في الصلاة لا يحنث ) اتفاقا.
(باب لايمين في الاكل الشرب والبس والكلام،۷۹۴/۳، سعيد)
الفقه الاسلامي:
من حلف لا يتكلم اليوم، فقرأ القرآن، أو صلى، أو سبح: لم يحنث، استحساناً، ومثله التهليل والتكبير، وهو يتناول القراءة والتسبيح في الصلاة وخارجها؛ لأن هذا لا يسمى كلاماً عرفاً، أما في الصلاة فليس بكلام عرفاً ولا شرعاً، قال عليه الصلاة والسلام: «إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، وإنما هي التهليل والتسبيح وقراءة القرآن» (2) وقوله صلّى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى يحدث من أمره ما يشاء، وإن
مما أحدث ألا نتكلم في الصلاة» (3) ، ولأن الكلام مفسد، ولو كانت هذه الأشياء من كلام الناس لأفسدت.
(الحلف في الكلام،۴۳۳/۳، رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔