سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-681 Fatwa no: 1448-681

امام صاحب سے بات نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد لقمہ دینے سے قسم ٹوٹے گی یا نہیں؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی امام سے کسی بات پر تھوڑا سا ناراض ہو گیا اس کے بعد اس نے قسم کھائی کہ میں امام صاحب سے باتیں نہیں کروں گا اب رمضان کی راتوں میں امام صاحب تراویح پڑھا رہے تھے قراء ت میں غلطی آنے پر اس آدمی نے امام کو لقمہ دے دیاتو کیا وہ قسم توڑنے والاشمار ہو گا یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ قسم میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے جب کہ نما ز میں لقمہ دینے کو عرف میں کلام شمار نہیں کیا جاتا،لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی آدمی نے امام سے  باتیں نہ کرنے کی قسم کھائی پھر تراویح  کی نماز میں قراءت  کی  غلطی آنے پر اس آدمی نے امام کو  لقمہ دے دیا ،تولقمہ دینے سے قسم توڑنے والا شمار نہیں ہو گا، البتہ کسی مسلمان سے کلام نہ کرنے کی قسم کھانا مناسب نہیں ہے ۔
الفتاوي التاتارخانية:
واذا حلف لا يكلم فلاناّ فالقتدي الحالف بلمحلوف عليه فسها المحلوف عليه فسبح له الحالف أو فتح عليه بالقراءة: لم يحنث.
(الحلف علي الاقوال،۶۳/۱۰، اعزازيه)
الفتاوي الهنديه:
 هكذا في فتاوى قاضي خان إذا حلف لا يكلم فلانا فاقتدى الحالف بالمحلوف عليه فسها عليه فسبح له الحالف لم يحنث.
(الباب السادس اليمين في الكلام،۹۷/۲، دارالفكر)
الدرا لمختار:
( حلف لا يتكلم فقرأ القرآن أو سبع في الصلاة لا يحنث ) اتفاقا.
(باب لايمين في الاكل الشرب  والبس والكلام،۷۹۴/۳، سعيد)
الفقه الاسلامي:
من حلف لا يتكلم اليوم، فقرأ القرآن، أو صلى، أو سبح: لم يحنث، استحساناً، ومثله التهليل والتكبير، وهو يتناول القراءة والتسبيح في الصلاة وخارجها؛ لأن هذا لا يسمى كلاماً عرفاً، أما في الصلاة فليس بكلام عرفاً ولا شرعاً، قال عليه الصلاة والسلام: «إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، وإنما هي التهليل والتسبيح وقراءة القرآن» (2) وقوله صلّى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى يحدث من أمره ما يشاء، وإن 
مما أحدث ألا نتكلم في الصلاة» (3) ، ولأن الكلام مفسد، ولو كانت هذه الأشياء من كلام الناس لأفسدت.
(الحلف في الكلام،۴۳۳/۳، رشيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026