سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-682 Fatwa no: 1448-682

قربانی کے لیے خریدی گئی گابھن بکری کو دوسری کم قیمت بکری سے بدلنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست نے قربانی کی نیت سے باسٹھ ہزار کی بکری لی ہے ،لیکن اس نے بتایا ہے کہ گھر لانے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ یہ تو گابھن ہے تو کیا اس بکری کو چھوڑ کر دوسری بکری لے کر اس کی قربانی کر سکتے ہیں اور اگر دوسری بکری ہمیں باسٹھ ہزار سے کم میں ملے تو بھی درست ہے اور جو گابھن بکری ہے اگر اس کو گھر میں رکھا جائے یا اس کو بیچ دیا جائے تو کوئی حرج تو نہیں؟
جواب :

بصورت مسئولہ  اگرمذکورہ شخص مالدار ہے تو  اس کاگابھن بکری کو (جو قربانی کی نیت سے  خریدی تھی)    چھوڑ کر دوسری بکری   لے کر اس کو ذبح کرنا درست ہے ،کیونکہ خریداری کی وجہ سے اس مالدار پر اسی  بکری کا ذبح کرنا لازم نہیں  ہے ،بلکہ اس کے بدلے میں  دوسر ی بکری ذبح کر سکتا ہے،بشرطیکہ  دوسری بکری کی قیمت  پہلی بکری کی قیمت کے برابر ہو یا اس  سے زیادہ ہو،تاہم اگر دوسری بکری کی قیمت  پہلی بکری کی قیمت سے کم ہےتو  جتنی رقم    باقی ہے اس کا صدقہ کرنا اس پر  لازم ہے،نیزگابھن  بکری کو فروخت   کر نا یا گھرمیں رکھنا دونوں جائزہے ۔
البتہ اگر مذکورہ شخص  غریب  ہے اور اس نے ایام نحر میں  قربانی کی نیت سے  بکری  لی  ہے تو اس  پر اسی گابھن بکری کی قربانی  کرنا واجب ہےاس  کے لیے اس کو  فروخت کرنا یا اس کو گھر میں رکھنا جائز نہیں ہو گااور  ذبح کے بعد اگر بچہ زندہ  ہو تو اس کا ذبح کرنا بھی ضروری ہوگا  اورا گر  اس نے ایام نحر سے پہلے قربانی کی نیت سے بکری لی ہے  توبعینہ اس  بکری کی قربانی لازم نہیں  ،بلکہ اس کے علاوہ دوسری بکری کی قربانی کرنے کی  اور   اس گابھن بکری  کو گھر میں  رکھنے یا اس کو فروخت  کرنے  کی گنجائش ہے۔
المبسوط:
ذَبْحِ الْحَامِلِ؛ لِأَنَّهُ يُتَوَهَّمُ أَنْ يَنْفَصِلَ الْجَنِينُ حَيًّا فَيُذْبَحُ، وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ لَحْمُ الْأُمِّ وَذَبْحُ الْحَيَوَانِ لِغ سضٍ صَحِيحٍ حَلَالٌ
(ذبيحة،۷/۱۲، دار المعرفة)
الدرالمختار مع رد المحتار:
وَفَقِيرٌ) عُطِفَ عَلَيْهِ (شَرَاهَا لَهَا) لِوُجُوبِهَا عَلَيْهِ بِذَلِكَ حَتَّى يَمْتَنِعَ عَلَيْهِ بَيْعُهَ.... (قَوْلُهُ لِوُجُوبِهَا عَلَيْهِ بِذَلِكَ) أَيْ بِالشِّرَاءِ وَهَذَا ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ لِأَنَّ شِرَاءَهُ لَهَا يَجْرِي مَجْرَى الْإِيجَابِ وَهُوَ النَّذْرُ بِالتَّضْحِيَةِ عُرْفًا كَمَا فِي الْبَدَائِعِ. وَوَقَعَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة التَّعْبِيرُ بِقَوْلِهِ شَرَاهَا لَهَا أَيَّامَ النَّحْرِ، وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَوْ شَرَاهَا لَهَا قَبْلَهَا لَا تَجِبُ وَلَمْ أَرَهُ صَرِيحًا فَلْيُرَاجَعْ
( الاضحية،۳۲۱/۶، دارالفكر)
البحرالرائق:
وَيُكْرَهُ ذَبْحُ الشَّاةِ إذَا تَقَارَبَ وِلَادَتُهَا لِأَنَّهُ يُضَيِّعُ مَا فِي بَطْنِهَا....ونذبح الشاة وفي بطنها الجنين أنلقيه أم نأكله؟ قال: كله إن شئت فإن ذكاته ذكاة أمه. ولانه جزء من أمه حقيقة لكونه متصلا بها وحكما .حتى يدخل في الاحكام الواردة على الام من البيع والهبة والعتق. 
(اكل الغراب،۱۹۵،۳۱۲/۸، دار الكتاب الإسلامي)
الفتاوي الهندية:
(الباب الثاني في وجوب الأضحية بالنذر وما هو في معناه) . رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه، ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، وإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين؛ لأنه لما أوجب الأولى بلسانه فقد جعل مقدار مالية الأولى لله تعالى فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، ولهذا يلزمه التصدق بالفضل
(الباب الثاني في وجوب الأضحية بالنذر،۲۹۴/۵، دارالفكر)
ايضا:
وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشترى للأضحية إذا كان المشتري فقيرا، بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها، وإن كان غنيا لا تجب عليه بشراء شيء،
(كتاب الأضحية، ۲۹۱/۵،دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026