سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-683 Fatwa no: 1448-683

**مال کی ضمانت لینے کے عوض معاوضہ وصول کرنے کا شرعی حکم**

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک قریبی رشتہ دار سپلائی کا کام کرتا ہے،اب وہ روالپنڈی سے کچھ سامان لے جانا چاہتا ہے،چونکہ کاروبار میں اعتماد چاہیے ہوتا ہے ؛اس لئے یہاں کا ڈیلر مجھ سے کہتا ہے کہ میں اس آدمی پر اعتماد نہیں کرسکتا،کیونکہ وہ میرے لئے نیا ہے،البتہ آپ کے توسط سے مال دے سکتا ہوں،اور اس کی گارنٹی بھی آپ لیں گےتو اب میرے لئے بھی یہ مشکل ہورہا ہے کہ میں مفت میں اتنا بڑا ضمان لے لوں،تو کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ مجھے بھی کچھ نہ کچھ رقم ملے یعنی ضمان تو میں برداشت کروں گا،لیکن مجھے بھی تو کچھ منافع ملنا چاہیے؟
جواب :

کفالت(ضمان) عقد تبرع ہےاس  پر اجرت لینا جائز نہیں،البتہ بعض دفعہ  کفالت (ضمان )کے بدلے میں  بہت سی ذمہ داریاں اور کاغذی کاروائیاں بندے پر عائد  ہوجاتی ہیں  جس کے بدلے میں مناسب اجرت لینا جائز ہے ؛کیونکہ  اس میں کفالت (ضمان )کے علاوہ  عمل بھی شامل  ہوتاہے جس پر اجرت لی جا سکتی ہے ،لیکن   صورت مسئولہ  میں   ضمان دینےوالے پر   چونکہ ایسی کوئی بھی عملی ذمہ داری عائد نہیں ہے جس میں اس کا عمل بھی شامل ہو ؛اس لیے اس  ضمان   پر نفع لینا جائز  نہیں ۔  البتہ  اس کا متبادل یہ کر سکتا ہے کہ وہ (ضمان دینے والا)  وکیل بن کر   مال  اپنے موكل (قریبی رشتہ دار  )کو پہنچادے  اور پھر     وہ  اپنی  وکالت کی  اجرت وصول کر لے  ، بشرطیکہ پہلے سے وکالت کی اجرت طے ہو ۔
كما في فقه البيوع: 
اما الكفالة والضمان  فان المقرر في الفقه الاسلامي انه لا يجوز اخذ الاجرة علي الكفالة فانه عقد تبرع وليس عقد معاوضة كالقرض
(حكم عمولة اصدار خطاب الضمان،ص1070،ج:2،ط:معارف القرآن)
وفي فتح القدير:
وَالْكَفَالَةُ عَقْدُ تَبَرُّعٍ كَالنَّذْرِ لَا يُقْصَدُ بِهِ سِوَى ثَوَابِ اللَّهِ أَوْ رَفْعِ الضِّيقِ عَنْ الْحَبِيبِ فَلَا يُبَالَى بِمَا الْتَزَمَ فِي ذَلِكَ، وَيَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ إقْدَامُهُ بِلَا تَعْيِينِهِ لِلْمِقْدَارِ حِينَ قَالَ مَا كَانَ عَلَيْهِ فَعَلَيَّ، فَكَانَ مَبْنَاهَا التَّوَسُّعَ فَتُحُمِّلَتْ فِيهَا الْجَهَالَةُ.
( الكفالة،ص:181،ج:7،ط: دار الفكر)
وفي فقه الاسلامي:
لكن إن شرط الكفيل تقديم مقابل أو أجر على كفالته، وتعذر على المكفول عنه تحقيق مصلحته من طريق المحسنين المتبرعين، جاز دفع الأجر للضرورة أو الحاجة العامة، لما يترتب على عدم الدفع من تعطيل المصالح كالسفر للخارج للدراسة أو للارتزاق، أو لتأجيل الجندية ونحوها، وأساس القول بالجواز فيه: أن الفقهاء أجازوا دفع الأجر للحاجة لأداء القربات والطاعة من تعليم قرآن وممارسة الشعائر الدينية، كما أنهم أجازوا دفع شيء من المال على سبيل الرشوة للوصل إلى الحق أو دفع الظلم، أو الدفع لعدو لدرء خطره وضرره عن البلاد. والمكفول عنه يحقق بالكفالة منفعة له تتعين الكفالة المأجورة سبيلاً إليها، لكن يجب عدم الاستغلال أو المغالاة في اشتراط المقابل، مراعاة لأصل مشروعية الكفالة وهو التبرع. كما يمكن اعتبار الأجر لمكاتب الكفالات مقابل الأتعاب في إنجاز معاملة الكفالة.
(أخذ الأجر على الكفالة في الوقت الحاضر،ص:4178،ج:6،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026