سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-684 Fatwa no: 1448-684

غیر قانونی طریقے سے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبا رے میں ایک بندہ گاڑی کا لائسنس بنوانا چاہتا ہے اور اسے کسی بندے نے کہا:10 ہزار یا عام لائسنس بنوانے کی جتنی فیس ہوتی ہے اتنی ہی مجھے دیں میں آپ کو لائسنس بنوا دیتا ہوں تو اب اس طرح لائسنس بنوانا کیسا ہے اور اس لائسنس پہ ڈرائیونگ کر کے جو کمائی حاصل کرے گا اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

بصورت مسئولہ حکومت کی طرف سے     لائسنس بنوا  نے کی مخصوص شرائط (جیسے :  ٹیسٹ ڈرائیو ،صحیح  کاغذات کا  جمع   کروانا اور بغیر رشوت کے  محکمہ سے منظوری کا ہونا) ہیں تو  اگر مذکورہ شخص تمام  شرائط کو باقاعدگی سے پورا کر کے   لائسنس حاصل کرتاہے تو  اس طرح یہ لائسنس بنوانا جائز ہے اور اس   کے ذریعےسے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہو گی اور اگر     شرائط  میں کوتاہی کر کے لائسنس حاصل  کرتاہے تو اس طرح   لائسنس حاصل کرنا   شرعاً درست نہیں ،تاہم کمائی حلال ہو گی۔
كما في القرآن المجيد:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
(النساء،آية:58،پاره :5)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يدخلُ الجنَّةَ خِبٌّ ولابخيلٌ ولا منَّانٌ)…قوله: ((خب)) :خَدَّاعٌ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْخِدَاعِ
(بَابُ الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ،ص:1324،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات…..وإن كانت غير مأجورة عرفاً، كانت مجاناً، أو تبرعاً، عملاً بالأصل في الوكالات: وهو أن تكون بغير أجر على سبيل التعاون في الخير
(ركن الوكالة ،ص:2997،ج:4،ط:دارالفكر)
 وفي الدر المختار :
أَنَّ طَاعَةَ الْإِمَامِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَاجِبَةٌ فَلَوْ أَمَرَ بِصَوْمٍ وَجَبَ
(مَطْلَبُ طَاعَةِ الْإِمَامِ وَاجِبَةٌ:ص:422،ج:5،ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026