نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ حکومت کی طرف سے لائسنس بنوا نے کی مخصوص شرائط (جیسے : ٹیسٹ ڈرائیو ،صحیح کاغذات کا جمع کروانا اور بغیر رشوت کے محکمہ سے منظوری کا ہونا) ہیں تو اگر مذکورہ شخص تمام شرائط کو باقاعدگی سے پورا کر کے لائسنس حاصل کرتاہے تو اس طرح یہ لائسنس بنوانا جائز ہے اور اس کے ذریعےسے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہو گی اور اگر شرائط میں کوتاہی کر کے لائسنس حاصل کرتاہے تو اس طرح لائسنس حاصل کرنا شرعاً درست نہیں ،تاہم کمائی حلال ہو گی۔
كما في القرآن المجيد:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
(النساء،آية:58،پاره :5)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ((لا يدخلُ الجنَّةَ خِبٌّ ولابخيلٌ ولا منَّانٌ)…قوله: ((خب)) :خَدَّاعٌ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْخِدَاعِ
(بَابُ الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهِيَةِ الْإِمْسَاكِ،ص:1324،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات…..وإن كانت غير مأجورة عرفاً، كانت مجاناً، أو تبرعاً، عملاً بالأصل في الوكالات: وهو أن تكون بغير أجر على سبيل التعاون في الخير
(ركن الوكالة ،ص:2997،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي الدر المختار :
أَنَّ طَاعَةَ الْإِمَامِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَاجِبَةٌ فَلَوْ أَمَرَ بِصَوْمٍ وَجَبَ
(مَطْلَبُ طَاعَةِ الْإِمَامِ وَاجِبَةٌ:ص:422،ج:5،ط:دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔