نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجس شخص کی قربانی رہ جائے اس پر جانور ذبح کرنے کے بجائے اس کی قیمت کا دینا لازم ہے ،لہذاصورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی سترہ سال کی قربانی رہتی ہےجس کی ادائیگی کے لیے اس کو اب سترہ متوسط بکروں کی قیمت یا متوسط حصوں کی قیمت دینی پڑے گی ۔
نیزکراچی میں رہنے والے كے ليے اگر وسعت ہے تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کراچی کے اعتبار سے 17 بکروں کی قیمت فقراء میں تقسیم کرے،البتہ اگر ایسا نہیں ہے ،بلکہ وہ اپنا ذمہ ساقط کرنا چاہتا ہے تو پھر گلگت ،چترال کے اعتبار سے 17 بکروں کی قیمت دے سکتا ہے ،چاہے پھر گلگت میں رقم ادا کرےیا کراچی میں۔
نیز اس بات بھی گنجائش ہے کہ اگر سترہ بکروں کی قیمت کے بجائے تین گائیوں میں سے سترہ حصوں کی قیمت یا دوگائیوں اور تین بکروں کی قیمت دے دے تو بھی ذمہ ساقط ہو جائے گا ۔
كما في الدرالمختارمع رد المحتار:
(وَجَازَ دَفْعُ الْقِيمَةِ فِي زَكَاةٍ وَعُشْرٍ وَخَرَاجٍ وَفِطْرَةٍ وَنَذْرٍ وَكَفَّارَةِ غَيْرِ الْإِعْتَاقِ) وَتُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ يَوْمَ الْوُجُوبِ، وَقَالَا يَوْمَ الْأَدَاءِ. وَفِي السَّوَائِمِ يَوْمَ الْأَدَاءِ إجْمَاعًا، وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَيُقَوَّمُ فِي الْبَلَدِ الَّذِي الْمَالُ فِيهِ
(قَوْلُهُ فِي زَكَاةِ إلَخْ) قَيَّدَ بِالْمَذْكُورَاتِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ دَفْعُ الْقِيمَةِ فِي الضَّحَايَا...؛ لِأَنَّ مَعْنَى الْقُرْبَةِ إرَاقَةُ الدَّمِ... ثُمَّ قَالَ: وَلَا يَخْفَى أَنَّهُ مُقَيَّدٌ بِبَقَاءِ أَيَّامِ النَّحْرِ، أَمَّا بَعْدَهَا فَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيمَةِ كَمَا عُرِفَ فِي الْأُضْحِيَّةِ.
(زكاة الغنم،ص:286،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
ولو لم يضح حتى مضت أيام النحر فقد فاته الذبح .....تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري،....لو اشترى شاة للأضحية عن نفسه أو عن ولده فلم يضح حتى مضت أيام النحر كان عليه أن يتصدق بتلك الشاة أو بقيمتها
(الاضحية،ص:292،ج:5،ط:دارالفكر)
وفى البحر الرائق:
وأما شرائط آدابها فمنها الوقت في حق المصري بعد صلاة الامام، والمعتبر مكان الاضحية لا مكان المضحي. وسببها طلوع فجر يوم النحر، وركنها ذبح ما يجوز ذبحه.
(فصل،ج:8،ص:317،ط: البحر الرائق)
وفي الفقه الاسلامي:
المبحث السادس ـ أحكام لحوم الضحايا:
أما نقلها إلى بلد آخر: فقال الحنفية: يكره نقلها كالزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها إلى قرابته أو إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده، ولو نقل إلى غيرهم أجزأه مع الكراهة.
(الاضحية،ص:2743،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
ثم المعتبر في ذلك مكان الأضحية، حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، ولو كان على العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة.
(علی من تجب الاضحية،ج:4،ص:357،ط: دار احياء التراث العربي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔