سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-686 Fatwa no: 1448-686

گزشتہ 17 سال کی قربانی کی قضا میں بکرے یا بڑے جانور کے حصوں کی قیمت ادا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی گزشتہ 17 سالوں کی قربانی رہتی ہے اور 17 بکروں کی قربانی بہت زیادہ بنتی ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا سترہ بکروں کی قیمت دینا ضروری ہے یا 17 حصوں (3بڑے جانور) کی قیمت کی بھی گنجائش ہے اوراگر بکروں کی قیمت دینا ضروری ہے تو کیا دور علاقے گلگت،چترال وغیرہ میں جہاں بکروں کی قیمت کم ہے،جبکہ بندہ کراچی میں ہے تو کیا وہ وہاں (گلگت ،چترال )کے حساب سے وہاں ہی یا وہاں کی قیمت کراچی میں فقراء کو دے سکتا ہے؟
جواب :

جس شخص  کی قربانی رہ جائے اس پر  جانور  ذبح کرنے کے بجائے اس کی  قیمت کا دینا لازم ہے ،لہذاصورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی  سترہ سال کی قربانی  رہتی ہےجس کی ادائیگی کے لیے اس  کو اب   سترہ متوسط بکروں کی قیمت     یا متوسط حصوں کی قیمت دینی پڑے گی ۔
نیزکراچی میں رہنے  والے كے ليے اگر وسعت ہے  تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کراچی کے اعتبار سے 17 بکروں کی قیمت فقراء میں تقسیم کرے،البتہ اگر ایسا نہیں  ہے ،بلکہ وہ اپنا ذمہ ساقط کرنا چاہتا ہے تو پھر   گلگت ،چترال  کے اعتبار سے 17  بکروں کی قیمت    دے سکتا ہے ،چاہے پھر گلگت میں رقم ادا کرےیا کراچی میں۔
نیز اس بات بھی  گنجائش ہے کہ  اگر  سترہ بکروں  کی قیمت کے بجائے   تین گائیوں میں سے سترہ حصوں  کی قیمت یا دوگائیوں  اور تین بکروں کی قیمت دے  دے    تو بھی  ذمہ ساقط ہو جائے گا ۔
كما في الدرالمختارمع رد المحتار:
(وَجَازَ دَفْعُ الْقِيمَةِ فِي زَكَاةٍ وَعُشْرٍ وَخَرَاجٍ وَفِطْرَةٍ وَنَذْرٍ وَكَفَّارَةِ غَيْرِ الْإِعْتَاقِ) وَتُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ يَوْمَ الْوُجُوبِ، وَقَالَا يَوْمَ الْأَدَاءِ. وَفِي السَّوَائِمِ يَوْمَ الْأَدَاءِ إجْمَاعًا، وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَيُقَوَّمُ فِي الْبَلَدِ الَّذِي الْمَالُ فِيهِ
(قَوْلُهُ فِي زَكَاةِ إلَخْ) قَيَّدَ بِالْمَذْكُورَاتِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ دَفْعُ الْقِيمَةِ فِي الضَّحَايَا...؛ لِأَنَّ مَعْنَى الْقُرْبَةِ إرَاقَةُ الدَّمِ... ثُمَّ قَالَ: وَلَا يَخْفَى أَنَّهُ مُقَيَّدٌ بِبَقَاءِ أَيَّامِ النَّحْرِ، أَمَّا بَعْدَهَا فَيَجُوزُ دَفْعُ الْقِيمَةِ كَمَا عُرِفَ فِي الْأُضْحِيَّةِ.
(زكاة الغنم،ص:286،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
ولو لم يضح حتى مضت أيام النحر فقد فاته الذبح .....تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري،....لو اشترى شاة للأضحية عن نفسه أو عن ولده فلم يضح حتى مضت أيام النحر كان عليه أن يتصدق بتلك الشاة أو بقيمتها
(الاضحية،ص:292،ج:5،ط:دارالفكر)
وفى البحر الرائق:
وأما شرائط آدابها فمنها الوقت في حق المصري بعد صلاة الامام، والمعتبر مكان الاضحية لا مكان المضحي. وسببها طلوع فجر يوم النحر، وركنها ذبح ما يجوز ذبحه.
(فصل،ج:8،ص:317،ط: البحر الرائق)
وفي الفقه الاسلامي:
المبحث السادس ـ أحكام لحوم الضحايا:
أما نقلها إلى بلد آخر: فقال الحنفية: يكره نقلها كالزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها إلى قرابته أو إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده، ولو نقل إلى غيرهم أجزأه مع الكراهة.
(الاضحية،ص:2743،ج:4،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
ثم المعتبر في ذلك مكان الأضحية، حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، ولو كان على العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة.
(علی من تجب الاضحية،ج:4،ص:357،ط: دار احياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 02 Sep 2026